پی ایم ہیپاٹائٹس سی پروگرام حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو اس مرض سے پاک کرنا ہمارا قومی عزم ہے، وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال

روزینہ اسماعیل, JULY 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی حکومت کی اولین اور مقتدر ترجیحات میں شامل ہے اور ملک کو اس موذی مرض سے پاک کرنا ہمارا پختہ قومی عزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ محض صحت کا ایک عام منصوبہ نہیں بلکہ ہماری قوم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع مہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم پروگرام برائے ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے منعقدہ ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اس مقتدر اجلاس میں ہیپاٹائٹس کے قومی تکنیکی مشاورتی گروپ کے سربراہ پروفیسر سعید اختر، ایڈیشنل سیکرٹری صحت، پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیپاٹائٹس سی پروگرام، پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اسلام آباد نے خصوصی شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پراجیکٹ ڈائریکٹر نے وفاقی وزیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہیپاٹائٹس سی اسکریننگ کے پائلٹ مرحلے کی پیش رفت اور اب تک کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی اور مقتدر اعداد و شمار پیش کیے۔ وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے بریفنگ کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں پائلٹ مرحلہ شروع کرنے کا بنیادی مقصد عملی طور پر نظام میں درپیش آنے والے مسائل اور رکاوٹوں کی تزویراتی نشاندہی کرنا تھا، اور اب ان تمام مسائل کا انتہائی مؤثر حل نکال کر آئندہ ۱۵ دنوں کے اندر اس پورے اسکریننگ نظام کو مکمل طور پر فعال اور مستحکم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور فوری علاج کے ذریعے اس بیماری کے پھیلاؤ کو مقتدر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، اسی لیے اس بیماری کا جڑ سے خاتمہ اب ایک قومی ترجیح اور ناگزیر مقصد بن چکا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں اس مقتدر پروگرام کی کامیابی میں پمز اور پولی کلینک ہسپتال کلیدی اور تزویراتی کردار ادا کریں گے، جبکہ عوامی آگاہی مہم کو میڈیا کے ذریعے مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ہر شہری اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ لازمی کروائے۔ وفاقی وزیرِ نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ہیپاٹائٹس سی ایک مکمل طور پر قابلِ علاج بیماری ہے، تاہم اس کے حتمی خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی مشترکہ اور مخلصانہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مہم میں بھرپور حصہ لیں۔ وزیرِ صحت نے مقتدر اعلان کیا کہ حکومت شہریوں کو مفت اسکریننگ اور مفت علاج کی جدید سہولت فراہم کر رہی ہے، اور جن افراد میں بھی ہیپاٹائٹس سی کی تشخیص ہوگی، ریاست ان کے علاج معالجے کے تمام تر اخراجات خود برداشت کرے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت کی ملاقات، صحت کے شعبے میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔