

کاشف عباسی ,june 24,2026
فیصل آباد ( نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء
صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کے علاقے ٹھیکری والا میں ایک انتہائی دلخراش اور اندوہناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں گزشتہ روز سے لاپتہ ہونے والے 8 سالہ معصوم بچے کی لاش ایک قریبی مکان کے واش روم سے برآمد ہوئی ہے۔ شکیل نامی یہ بچہ کل گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا تھا، جس کے بعد لواحقین کی درخواست پر پولیس تھانے میں اس کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔ مقتول بچے کے غمزدہ خاندان نے سنگین اور مقتدر الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے معصوم بچے کو مبینہ طور پر وحشیانہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انتہائی بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔
متاثرہ خاندان اور لواحقین کی تکالیف اور غم و غصے میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سول ہسپتال فیصل آباد کی شدید مقتدر انتظامی غفلت اور لاپرواہی سامنے آئی۔ معصوم بچے کی لاش کو ہسپتال لائے ہوئے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود پوسٹ مارٹم کا عمل شروع نہیں کیا جا سکا، جس پر مقتول کے لواحقین، رشتہ داروں اور اہل علاقہ نے پوسٹ مارٹم میں مجرمانہ تاخیر اور ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے خلاف سول ہسپتال کے باہر لاش سڑک پر رکھ کر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے غمزدہ والد اور رشتہ داروں نے روتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ہمارے معصوم بچے کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے، ہم دو گھنٹے سے زائد وقت سے لاش لیے ہسپتال کے باہر خوار ہو رہے ہیں لیکن یہاں کوئی ڈاکٹر تک دستیاب نہیں ہے، ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کرتے ہوئے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور وہاں سے اہم فرانزک شواہد اور نمونے اکٹھے کر لیے ہیں۔ پولیس حکام نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفصیلی اور تزویراتی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ مقامی کمیونٹی اور لواحقین کی جانب سے ملوث سفاک ملزمان کی فوری گرفتاری اور ہسپتال کے غافل عملے کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مقتدر مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کا اس مقتدر واقعے پر کہنا ہے کہ بچے کے ساتھ زیادتی کی باضابطہ تصدیق اور موت کی اصل تکنیکی وجہ کا حتمی تعین تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا، جس کے بعد ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔