

کاشف عباسی , JULY 01,026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے؛ قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے، اور مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز یہاں اڑان پاکستان “مٹی کی پکار” اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام دو ہزار چھبیس کی پروقار افتتاحی تقریب سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وفاقی وزیر نے تفصیلاً بتایا کہ اس مقتدر پروگرام کے لیے دنیا کے چوون ممالک سے تقریباً دو ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی ایک سو پچاس ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے پینتالیس غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا۔ احسن اقبال نے منتخب اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے، پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔ اس سال پروگرام کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی اسکالرز بھی شریک ہیں، جو اس اقدام کی بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارتِ منصوبہ بندی کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک (یعنی برآمدات، توانائی، ماحولیات، ای پاکستان اور مساوات و بااختیار بنانا) کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں پالیسی سازی کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی؛ ماضی میں حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہاؤس کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو دو ہزار تیس تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔ دو ہزار بائیز میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج دنیا پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ریاست پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اب سفارتی کامیابیوں کے بعد اصل معرکہ معاشی ترقی کا ہے جسے جیتنے کے لیے نوجوان نسل کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ ملکی جامعات کے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اسکالرز کو تاکید کی کہ وہ ان چھ ہفتوں کو اپنی زندگی کا یادگار تجربہ بنائیں اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔