اب تک پھنس جانے والی 220 ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا؛ جدید ایمبولینس 200 کلومیٹر کے علاقے میں خدمات انجام دے گی، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا تقریب سے مقتدر خطاب

منصور احمد, JULY 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن (اندھی ڈولفن) کی بقا اور تحفظ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت تمام شراکت داروں کے مابین مربوط اور اجتماعی اقدامات پر زور دیا ہے۔ اسلام آباد میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک مقتدر تقریب کے دوران انہوں نے جدید ترین ‘انڈس ڈولفن ریسکیو ایمبولینس’ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار اس نایاب نسل کو بچانے کے لیے وفاقی حکومت، حکومتِ سندھ، حکومتِ پنجاب اور ڈبلیو ڈبلیو ایف نے مل کر غیر معمولی کام کیا ہے، جس کی بدولت اب تک دریا کے مختلف حصوں میں پھنس جانے والی 220 نایاب ڈولفنز کو کامیابی سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے انڈس بلائنڈ ڈولفن کی تاریخی و ماحولیاتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ منفرد آبی حیات دریائے سندھ کی قدیم ترین تاریخ کا حصہ ہے، جو یہاں آباد ہونے والی انسانی تہذیبوں سے بھی پہلے سے اس دریا کا مسکن ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کو دور کیا کہ یہ ڈولفن کسی بیماری یا حادثے کی وجہ سے نابینا ہے، بلکہ قدرتی ارتقائی عمل کے تحت اس کی آنکھیں فعال نہیں ہیں اور یہ پانی میں راستہ تلاش کرنے اور شکار کرنے کے لیے آواز کی لہروں (ایکو لوکیشن) کا استعمال کرتی ہے۔ وفاقی وزیر نے اصرار کیا کہ یہ نایاب ڈولفن محض ایک جاندار نہیں بلکہ دریائے سندھ کے پورے ماحولیاتی نظام اور وادی سندھ کی عظیم تہذیبی وراثت کی ایک مقتدر علامت ہے۔

وفاقی وزیر نے ماضی کی سنگین صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ 1970ء کی دہائی میں انڈس ڈولفن کی تعداد تشویشناک حد تک کم ہو کر صرف 1200 کے لگ بھگ رہ گئی تھی، تاہم مشترکہ مہم اور بروقت تزویراتی فیصلوں نے اسے معدوم ہونے سے بچا لیا۔ انہوں نے چین کے دریائے یانگ زی کی ناپید ہو جانے والی ‘بائیجی ڈولفن’ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک نسل کو بچایا نہ جا سکا، مگر پاکستان نے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کر کے اپنی نایاب ڈولفن کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اعلان کیا کہ نو متعارف کرائی گئی جدید ریسکیو ایمبولینس دریائے سندھ کے تقریباً 200 کلومیٹر کے طویل ماحولیاتی علاقے میں چوبیس گھنٹے ہنگامی خدمات انجام دے گی، جبکہ اس پورے مشن میں دریا کے کناروں پر آباد 1500 سے زائد مقامی ماہی گیروں اور خاندانوں کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے۔

اپنے خطاب کے آخر میں ڈاکٹر مصدق ملک نے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، درجہ حرارت میں اضافہ اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا محض تقدیر کا فیصلہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کا نتیجہ ہیں، جس کی وجہ سے حالیہ برسوں کے تباہ کن سیلابوں میں 4 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور ہزاروں لقمہ اجل بنے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت دریائے سندھ کو ‘لیونگ انڈس’ (زندہ دریائے سندھ) کے طور پر محفوظ رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور عوام کو بھی اپنی قدرتی وراثت اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اپنی اجتماعی ذمہ داریاں نبھانی ہوں گی۔

مون سون کے ممکنہ خطرات: وفاقی وزیر مصدق ملک کی تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور خیبر پختونخوا میں محفوظ سیاحت یقینی بنانے کی ہدایت

کاشف عباسی , JULY 13,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے مون سون کی حالیہ لہر کے تناظر میں تمام متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور ضلعی و یونین کونسل کی سطح پر باہمی رابطہ کاری کو مزید مؤثر بنانے کی مقتدر ہدایت جاری کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ تفصیلی اعلامیے کے مطابق، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر این ڈی ایم اے اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان مون سون 2026ء کی تیاریوں کا ایک اہم اور تزویراتی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے، ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا کے حکام نے مون سون کے دوران ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی تیاریوں، ریسکیو آپریشنز کے پلان، ہنگامی منصوبہ بندی اور وسائل کی دستیابی کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر صوبے میں سیلابی صورتحال، شہری و دریائی سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ (تودے گرنے) اور گلیشائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب کے خطرات اور ان کے تدارک کے لیے کیے گئے اب تک کے تزویراتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر مصدق ملک نے زور دے کر کہا کہ مون سون کے اس سیزن کے دوران خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں محفوظ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کے لیے سفری سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے حکام کو سخت ہدایات دیں کہ مون سون کی بارشوں اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں اور املاک کو محفوظ رکھا جا سکے۔