کاروباری شعبے کے لیے اہم تبدیلی: پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی، فنانس بل میں حتمی منظوری

کاشف عباسی ,june 23,2026

لاہور (اقتصادی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 23 جون 2026ء

وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس بل کی باقاعدہ منظوری کے بعد پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد ایڈوانس ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ اس مقتدر فیصلے کے تحت ملک بھر میں غیر منقولہ جائیداد (پراپرٹی) کے لین دین پر ٹیکس کی نئی شرحیں نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالیاتی سال کے آغاز سے ہی پورے ملک میں جائیداد کے خریداروں اور فروخت کنندگان سے اسی نئی مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی وصولی کا آغاز کر دیا جائے گا۔

نئے منظور شدہ قانون کے مقتدر مروجہ ضوابط کے تحت، یکم جولائی سے جائیداد فروخت کرنے والے کسی بھی شخص سے سودے کی مجموعی رقم کا 2.75 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ دوسری جانب، جائیداد خریدنے والے شخص پر بھی پراپرٹی کی رائج الوقت فیئر مارکیٹ ویلیو کا 1.25 فیصد ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوگا۔ معاشی ماہرین اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق، ٹیکس کی شرح میں اس مقتدر تبدیلی سے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمیوں اور کاروباری لاگت پر براہِ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

پراپرٹی سیکٹر کے برعکس، فنانس بل کے تحت کارپوریٹ سیکٹر اور بینکاری کے شعبے پر ٹیکسوں کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والی ترامیم کے مطابق، بینکنگ کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) کے سیکٹر کی پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سالانہ آمدن پر 10 فیصد کی شرح سے بھاری ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ ان کے علاوہ دیگر تمام کارپوریٹ کمپنیوں کی پچاس کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی پر 8 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس بڑھانے سے دستاویزی معیشت اور قومی خزانے کو مقتدر فائدہ پہنچے گا۔