

محمود احمد, JULY 01,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء
عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔
عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔