

منصور احمد, JULY 06,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے محتسب سیکرٹریٹ کے درمیان پیر کے روز ایک اہم اور تزویراتی مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے گئے ہیں۔ اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق، خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ، پارلیمانی نظام میں ان کی موثر شمولیت کے فروغ، مقامِ کار پر خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کرنے والے سال 2010ء کے قانون کے موثر نفاذ، جائے ملازمت پر تحفظ اور پارلیمانی روابط سے متعلق تمام اہم امور میں باہمی ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس مفاہمتی یادداشت کے تحت معلومات کے تبادلے، ملازمین کی استعداد کار میں اضافے، باہمی مشاورت اور تکنیکی معاونت کے لیے ایک جامع مشترکہ فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ دونوں مقتدر اداروں کے آئینی دائرہ اختیار، ادارہ جاتی خودمختاری اور پارلیمانی مراعات کا مکمل احترام ہر سطح پر برقرار رکھا جائے۔ اس اہم معاہدے کے تحت خواتین کی پارلیمانی کاکس کے ساتھ تعاون کے دائرے کو بھی مزید وسعت دی جائے گی تاکہ عوامی آگاہی میں اضافہ، قانون سازی پر موثر عمل درآمد اور باہمی مکالمے کے ذریعے خواتین کے حقوق کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ مفاہمتی یادداشت دونوں مقتدر اداروں کے اس مشترکہ عزم کی عکاس ہے کہ مربوط کوششوں کے ذریعے خواتین کے حقوق، بہتر طرزِ حکمرانی اور ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس مقتدر تقریب کے دوران قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی سعید احمد اور محتسب حکومتِ خیبر پختونخوا بیرسٹر رباب مہدی نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سیکریٹری برائے خصوصی اقدامات سید شمعون ہاشمی، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور صوبائی محتسب خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔