یوکرین تنازع میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن کے امکانات کو مزید معدوم کر رہی ہے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا واشگاف موقف

محمود احمد, JULY 09,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کی لڑائی میں حالیہ شدید اضافہ اور جنگ کے دائرۂ کار میں مسلسل توسیع نہ صرف متاثرہ علاقوں میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے، بلکہ فریقین کے درمیان فاصلے، عدم اعتماد اور تزویراتی کشیدگی کو بھی ہوا دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں پُرامن مذاکرات کے لیے سیاسی گنجائش تیزی سے سکڑ رہی ہے اور امن کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

مقتدر تفصیلات کے مطابق، یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے آج اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق منعقدہ خصوصی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس تنازع نے جس خطرناک اور تشویشناک رخ کو اختیار کر لیا ہے، اسے فوری طور پر تبدیل کرنے کی تزویراتی ضرورت ہے، اور اس کا بہترین راستہ فوجی ذرائع کو اپنانے کے بجائے سنجیدہ مکالمے اور سفارت کاری میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کونسل کو بتایا کہ واضح طور پر اس ضمن میں بنیادی ذمہ داری تمام متعلقہ فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ہم ایک بار پھر فوری اور مکمل جنگ بندی اور سنجیدہ و بامعنی مذاکرات کی بلا تاخیر بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور بنیادی اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور پُرامن تصفیہ ہی خطے میں دیرپا امن کے حصول کا واحد قابلِ عمل تزویراتی راستہ ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے اراکین کے سامنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کونسل کے اندر اور باہر، جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی بارہا کی جانے والی مقتدر اپیلیں اب تک بدقسمتی سے مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں ہیں۔ اپنے تزویراتی بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس عالمی تنازع کے منصفانہ، جامع، پائیدار اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام بین الاقوامی کوششوں کی بلا تفریق حمایت جاری رکھے گا۔