اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے باوجود پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ تمام رہنما، کارکنان اور پارلیمانی اراکین بانی چیئرمین عمران خان کے مؤقف پر متحد ہیں۔

Spread the love

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر رائے کا اختلاف ایک فطری سیاسی عمل ہے، اسے تقسیم یا دھڑوں کی سیاست سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف رہنماؤں کی آرا الگ ہو سکتی ہیں، تاہم جب بات عمران خان کی ہو تو پوری جماعت ایک صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر سے بعض رہنماؤں اور ذرائع کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے کہ عمران خان کی طویل جیل مہم کے دوران پی ٹی آئی اب تک ایک متفقہ سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی سیاست، پارلیمانی کردار، فیصلہ سازی اور پارٹی میں مختلف اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پارٹی کے بعض اندرونی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت مختلف گروپس متحرک ہیں جن میں مرکزی قیادت، عمران خان کا خاندان، پارلیمانی پارٹی، خیبرپختونخوا حکومت اور بیرون ملک مقیم سوشل میڈیا کارکن شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حلقوں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ فیصلوں کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث سیاسی حکمت عملی پر اتفاق رائے میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی کی سابقہ پولیٹیکل کمیٹی کو ختم کرکے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جہاں اہم فیصلوں پر بحث کی جاتی ہے، تاہم حساس معاملات اکثر عمران خان کو بھجوا دیے جاتے ہیں جس سے فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔

پارلیمانی کردار کے حوالے سے بھی بعض پی ٹی آئی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک رکنِ اسمبلی کے مطابق پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود ہونے کے باوجود پارلیمانی کمیٹیوں میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں کر سکی، حالانکہ اصل قانون سازی انہی کمیٹیوں میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو کمیٹیوں میں فعال کردار ملے تو وہ قانون سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، بصورت دیگر اسمبلی میں موجودگی کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی کو سیاسی گنجائش بڑھانے کے لیے زیادہ منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق احتجاجی سیاست اور سوشل میڈیا بیانیے میں توازن پیدا کیے بغیر مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ تجربہ کار سیاسی قیادت کو زیادہ فعال کردار دینا چاہیے۔ بعض رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے بعد ایک اہم سیاسی شخصیت قرار دیا، تاہم وہ اس وقت جیل میں ہیں