

کاشف عباسی ,May 17 ,2026
لاہور: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال انہیں مستقبل قریب میں 28 ویں آئینی ترمیم متعارف کرائے جانے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم اگر ایسی کوئی آئینی تبدیلی لائی گئی تو وہ اتحادی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی ممکن ہوگی۔
اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کسی ایک جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے سے ہی منظور ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی آئینی ترمیم کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ کئی آئینی اور گورننس سے متعلق امور اب بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات کے حل کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن ہر قدم وسیع تر قومی اتفاق رائے کے تحت ہی اٹھایا جائے گا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور آئینی معاملات میں تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے 18 ویں آئینی ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی تمام سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق اور مشاورت سے منظور ہوئی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے، ہزارہ اور سرائیکی صوبوں کے قیام جیسے معاملات بھی مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے سے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اتحادی حکومت کو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف انتظامی اور گورننس چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن کے حل کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور متفقہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔