

محمود احمد, JULY 06,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء
افغان رجیم کے اندرونی شدید خلفشار اور روز بروز بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ مقتدر ذرائع اور موصولہ تفصیلات کے مطابق، افغان طالبان رجیم جہاں ایک طرف عام افغان عوام کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، وہیں دوسری طرف وہ اپنے ہی اہم افغان کمانڈرز کی حفاظت کو یقینی بنانے سے بھی قاصر نظر آتی ہے۔ معروف بین الاقوامی افغان جریدے ’دی افغانستان انٹرنیشنل‘ کے مطابق، ننگرہار کے ضلع چپرحار میں جمعہ کے روز افغان طالبان کے ایک مقتدر مقامی کمانڈر کو نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے بے دردی سے قتل کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر، افغان طالبان نے اس کمانڈر کے قتل کے مبینہ شبہ میں اس کے سگے بھائی کو ہی گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، مقتول افغان کمانڈر کی شناخت ‘مسافر’ کے نام سے ہوئی ہے۔ جریدے کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مقتول کمانڈر چند روز کی چھٹی گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھر گیا ہوا تھا، جہاں اسے نشانہ بنایا گیا۔ دفاعی و سیاسی ماہرین کے مطابق، حالیہ چند مہینوں میں افغان طالبان کمانڈرز پر ہونے والے ان قاتلانہ حملوں کے بڑھتے ہوئے مقتدر واقعات دراصل افغانستان کے داخلی شدید اختلافات، مقامی مسلح مزاحمت اور مجموعی طور پر سکیورٹی کی بدترین و ناگفتہ بہ صورتحال کے کھلے عکاس ہیں۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت افغان طالبان رجیم کو بیک وقت اندرونی بغاوت، بڑھتے ہوئے گوریلا حملوں اور سنگین ترین داخلی سکیورٹی بحران جیسے تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ننگرہار میں طالبان کمانڈر مسافر کی یہ ہلاکت اس بات کا واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ موجودہ طالبان رجیم کے خلاف دبی دبی نفرت اب افغان عوامی سطح پر شدید ترین اختیار کر چکی ہے، جس سے خطے کے امن کو نئے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔