

محمود احمد May23,2026
نیویارک/ نیوز اینڈ نیوز
اقوامِ متحدہ: پاکستان نے ایک بار پھر لیبیا کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور قومی مفاہمت کا واحد راستہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا اور بین الاقوامی فوجداری عدالت سے متعلق اہم اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں امن کے قیام، ادارہ جاتی استحکام اور انصاف کے شفاف نظام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رپورٹ میں لیبیا سے متعلق تحقیقات، عدالتی تعاون اور علاقائی شراکت داروں کے ساتھ روابط میں پیش رفت ایک اہم پیشرفت ہے۔
پاکستانی مندوب نے اس بات کو خاص طور پر سراہا کہ لیبیا کی صورتحال میں پہلی مرتبہ ایک مشتبہ شخص کو عالمی عدالت کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد ابتدائی عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل صرف قانونی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی مفاہمت، سیاسی استحکام اور امن کے وسیع تر مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے زور دیا کہ بین الاقوامی احتسابی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے انصاف، غیرجانبداری، شفافیت اور یکساں طرزِ عمل ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عالمی قوانین کا اطلاق تمام ممالک پر مساوی بنیادوں پر ہونا چاہیے اور کسی بھی معاملے میں انتخابی یا امتیازی رویہ بین الاقوامی نظام کے اعتماد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان روم اسٹیچوٹ کا فریق نہیں، تاہم پاکستان سنگین بین الاقوامی جرائم کے خلاف مؤثر، شفاف اور غیرجانبدار احتساب کے اصول کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی انصاف کا نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کا اطلاق سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کیا جائے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 1970 پر عملدرآمد کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت اور لیبیائی حکام کے درمیان تعاون اہم ہے، تاہم اس عمل میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری، قومی اداروں اور داخلی معاملات کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ لیبیا میں قومی سطح پر اداروں کو مضبوط بنانے، قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے، عدالتی نظام کو مستحکم کرنے اور آئینی نگرانی کے عمل کو مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو طویل المدتی استحکام کی جانب لے جایا جا سکے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان نے لیبیا میں امن، استحکام، قومی مفاہمت اور پائیدار ادارہ جاتی تعمیر کے لیے جاری تمام بین الاقوامی اور مقامی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن اور انصاف کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا