تہران میں سفارتی سرگرمیاں تیز، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امریکہ اور ایران مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

Spread the love

کاشف عباسی ,May 23 ,2026

اسلام آباد / تہران: نیوز اینڈ نیوز

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جبکہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر جمعہ کے روز تہران پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران جاری ثالثی اور سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ تہران پہنچنے پر ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا، جبکہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ محسن نقوی گزشتہ کئی روز سے تہران میں موجود ہیں اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں کمی لانے کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات ابتدائی بیانات اور سفارتی اشاروں سے آگے بڑھ کر عملی اور تفصیلی معاملات تک پہنچ چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی صورتحال، ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور خطے میں فوجی کشیدگی روکنے کے نکات شامل ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے میں پاکستان کو اپنا اہم رابطہ کار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ مسلسل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی حکام سے رابطے میں ہے اور پاکستان نے سفارتی پیش رفت میں قابلِ تعریف کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر نے بھی امریکہ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے تہران میں مذاکراتی ٹیم بھیج دی ہے، جبکہ سعودی عرب بھی پسِ پردہ سفارتی کوششوں میں متحرک ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق خلیجی ممالک اب خطے میں کسی نئی جنگ کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ عالمی معیشت، تیل کی ترسیل اور بحری تجارت کو کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔

ادھر ایران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ افزودہ یورینیم مکمل طور پر حوالے کرنے کی شرط عائد کرتا ہے تو کسی معاہدے کا امکان کم ہو جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنے دفاعی اور جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مذاکرات کسی مستقل معاہدے کے بجائے ایک عبوری اور محدود فریم ورک کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی، مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی اور آئندہ مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل ٹائم لائن طے کی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ایک متوازن اور مؤثر سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ چین بھی اس پورے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اطلاعات ہیں کہ بیجنگ پاکستان کے ذریعے پسِ پردہ سفارتی ہم آہنگی کو ترجیح دے رہا ہے۔

سیاسی و دفاعی حلقوں کے مطابق اگر موجودہ کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ پاکستان کا عالمی سفارتی کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔