اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنگی جنسی تشدد میں ملوث ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا

Spread the love

محمود احمد May29,2026

نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)

اقوام متحدہ نے اسرائیل کو جنگ کے دوران جنسی تشدد میں ملوث ممالک کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے، جبکہ اس حوالے سے باقاعدہ تفصیلی رپورٹ جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی سالانہ رپورٹ میں اسرائیل اور روس کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ انہیں ان ممالک اور فریقوں کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جن پر جنگ کے دوران جنسی تشدد اور مخالفین کے ساتھ زیادتیوں کے قابلِ اعتبار الزامات موجود ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے اپنی رپورٹ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ زیادتیوں اور جنسی تشدد کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ مبینہ واقعات مختلف جیلوں، حراستی مراکز اور ایک فوجی اڈے پر پیش آئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس اسرائیل کو جاری کیا گیا انتباہ ان شواہد کی بنیاد پر تھا جن میں بعض اقسام کے جنسی تشدد کے مسلسل واقعات پر سنگین خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے اس اقدام کو سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کر دیا۔

ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے دفتر کے ساتھ تمام تعلقات ختم کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق سیکرٹری جنرل نے دیانت داری، غیر جانبداری اور پیشہ وارانہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے، اس لیے نئے سیکرٹری جنرل کی تقرری تک موجودہ دفتر سے روابط معطل رہیں گے۔

اس پر اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری جنرل کا دفتر اسرائیل سمیت تمام رکن ممالک کیلئے کھلا ہے اور اقوام متحدہ عالمی سفارتی روابط جاری رکھنے کیلئے پُرعزم ہے۔