

محمود احمد May29,2026
نیویارک/ اقوامِ متحدہ(نیوز اینڈ نیوز۔ 29 مئی 2026ء)
پاکستان نے یوکرین میں جاری جنگ کے فوری خاتمے کیلئے جنگ بندی، سفارت کاری اور مذاکراتی عمل کی بحالی پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فوجی ذرائع کسی بھی صورت دیرپا اور پائیدار امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے حالیہ شدید جھڑپوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ مسلسل فوجی کشیدگی نہ صرف انسانی جانوں کیلئے خطرہ بن رہی ہے بلکہ علاقائی استحکام اور عالمی امن کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں، خصوصاً شہریوں اور سفارتی تنصیبات کے تحفظ کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ تنازعات کا پُرامن حل ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع، مستقل اور باوقار امن کے حصول کیلئے سفارت کاری اور بامعنی مذاکرات ناگزیر ہیں۔
پاکستان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں فوری اور مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جنگی کارروائیوں کے جاری رہنے کا ہر گزرتا دن عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے اور فریقین کو امن سے مزید دور لے جا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے تنازع کے مذاکراتی حل کیلئے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور تمام فریقین کے جائز سلامتی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل جلد دوبارہ بحال ہوگا تاکہ یوکرین تنازع کے پُرامن حل کیلئے پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے یاد دلایا کہ پاکستان نے گزشتہ برس سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کے حق میں ووٹ دیا تھا اور پاکستان آئندہ بھی یوکرین تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کیلئے عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔