

کاشف عباسی ,May 17 ,2026
اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی غیر اعلانیہ دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی جاری “شٹل ڈپلومیسی” کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو مکمل تعطل سے بچانا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکراتی ادوار کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے دوبارہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس دورے کو باضابطہ طور پر دوطرفہ تعلقات اور سرحدی سیکیورٹی تعاون کے تناظر میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کے پس منظر میں خطے کی بدلتی صورتحال اور ایران۔امریکہ کشیدگی بھی اہم عنصر ہے۔ توقع ہے کہ محسن نقوی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی سیکیورٹی، سرحدی تعاون اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے باوجود ایران کے معاملے پر کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا۔ اگرچہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چین تہران کو کسی ممکنہ سمجھوتے پر آمادہ کر سکتا ہے، تاہم عملی طور پر صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران “حقیقی ضمانت” فراہم کرے تو امریکہ یورینیم افزودگی پر 20 سالہ معطلی کے فارمولے پر غور کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک ہیں۔
ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں تہران میں 1,260 افراد جاں بحق جبکہ 2,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ہزاروں رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف سے بھی رابطہ کیا، جس میں علاقائی امن، پاک۔ازبک تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا