

کاشف عباسی ,May 16 ,2026
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کو ختم کرتے ہوئے نیا “سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026” نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اثاثوں کے اظہار، مالی شفافیت اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سخت اور واضح قواعد متعارف کرا دیے گئے ہیں۔
نئے ضابطے کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع کرانا لازمی ہوگا۔ ان اثاثہ جات کی معلومات کو شفافیت کے لیے عوامی سطح پر بھی جاری کیا جائے گا، تاہم ذاتی اور حساس تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان اثاثوں کی جانچ پڑتال اور نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
پہلی بار قواعد میں کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات کو بھی اثاثوں میں ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے حوالے سے بھی سخت نظام شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنے یا اہلِ خانہ کے مالی و ذاتی مفادات واضح طور پر ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر کسی قسم کے اثرانداز ہونے سے بچا جا سکے۔
سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو بغیر پیشگی اجازت کسی بھی ویب سائٹ، بلاگ، پوڈکاسٹ یا یوٹیوب چینل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سرکاری کام یا سہولیات کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
مزید برآں تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین بھی سخت کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ غیر متعلقہ افراد یا اداروں سے تحائف قبول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قواعد کے تحت قابلِ اجازت ہوں۔
قواعد میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ افسران اپنی آمدن سے زائد اخراجات نہیں کر سکیں گے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی صورت میں وضاحت دینا لازم ہوگا۔