امریکی مسجد پر حملے میں جاں بحق سیکیورٹی گارڈ کو ہیرو قرار دے دیا گیا

Spread the love

محمود احمد ,May 20 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پر فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ کو بہادری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پولیس اور مسلم کمیونٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی بروقت کارروائی نے درجنوں جانیں بچا لیں۔

امریکی حکام کے مطابق مسجد کمپلیکس پر دو نوجوان حملہ آوروں نے پیر کے روز اندھا دھند فائرنگ کی، جسے تفتیشی ادارے ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دے رہے ہیں۔ دونوں مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں سترہ اور اٹھارہ برس بتائی جا رہی ہیں، بعد ازاں ایک قریبی گاڑی سے مردہ حالت میں پائے گئے، جہاں ابتدائی تحقیقات کے مطابق انہوں نے خود کو گولیاں مار کر زندگی کا خاتمہ کیا۔

پولیس چیف اسکاٹ وال نے امین عبداللہ کے کردار کو “غیر معمولی بہادری” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ فوری ردعمل نہ دیتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔

مسجد سے ملحقہ اسکول کے سابق عملے کے ارکان نے بھی کہا کہ امین عبداللہ کی حاضر دماغی نے حملہ آوروں کو اُن کلاس رومز تک پہنچنے سے روک دیا جہاں بچے موجود تھے۔

امام طٰہٰ حسانے کے مطابق امین عبداللہ نے ریڈیو کے ذریعے فوری طور پر اساتذہ اور عملے کو خبردار کیا، جس کے بعد بچوں اور نمازیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

واقعے کے بعد امریکی مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، جبکہ مختلف مذہبی و سماجی رہنماؤں نے مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں، جبکہ وفاقی ادارے بھی واقعے کی چھان بین میں شامل ہو گئے ہیں۔