

کاشف عباسی ,May 20 ,2026
رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز
واشنگٹن / تہران: ایران نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر جارحانہ اقدامات جاری رہے تو خطے میں “نئے محاذ” کھول دیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو معاہدے کے لیے محدود وقت دیتے ہوئے ایک اور بڑے حملے کی دھمکی دے دی۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں، جب آپ کسی ملک کو بری طرح شکست دے رہے ہوں تو وہ مذاکرات کی میز پر آتا ہے اور معاہدے کی درخواست کرتا ہے۔”
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اگر ضروری ہوا تو ایران کو “ایک اور بڑا دھچکا” دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق تہران کے پاس واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے صرف چند دن باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ پیش رفت جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک سامنے آسکتی ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو “اسٹریٹجک غلطی” سے باز رہنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کا جواب وسیع اور سخت ہوگا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
قطر نے بھی بیان دیا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے، جبکہ سفارتی ذرائع کے مطابق خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں مصروف ہیں۔
ادھر متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراقی سرزمین سے چھوڑے گئے چھ ڈرون تباہ کر دیے ہیں۔ اماراتی حکام کے مطابق ڈرون حملوں کا مقصد حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، تاہم فضائی دفاعی نظام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خطرہ ٹال دیا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت اور دھمکی آمیز بیانات کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک بار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔