ایران امریکا مذاکرات جاری، جنگ کے بادل مزید گہرے

Spread the love

کاشف عباسی ,May 19 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

تہران / واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں سفارتی رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر منگل کو متوقع حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ “سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں اور سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کو یقین ہے کہ کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قابلِ قبول معاہدہ نہ ہوا تو امریکا “کسی بھی لمحے ایران پر مکمل اور بڑے پیمانے کے حملے” کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ کے مطابق خلیجی قیادت نے واشنگٹن کو فوجی کارروائی روکنے پر آمادہ کیا، جس کے بعد مجوزہ حملہ مؤخر کیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا جواب دے دیا ہے اور “پاکستانی ثالث کے ذریعے رابطے بدستور جاری ہیں”۔

انہوں نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران نے اپنے تحفظات امریکا تک پہنچا دیے ہیں اور سفارتی تبادلے کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے حالیہ مذاکرات میں کچھ “لچک” دکھائی ہے، تاہم اب بھی کئی اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ادھر چھ ہفتوں پر محیط جنگ کے بعد قائم ہونے والی نازک جنگ بندی خطرات سے دوچار دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد خطے میں دوبارہ فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیل کو 6 ہزار 500 ٹن اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی عسکری موجودگی میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی نگرانی کے لیے “پرسین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے، جسے عالمی توانائی سپلائی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکام نے عراق میں بعض مسلح گروہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سفارتی رابطے جاری ہیں، لیکن خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری تیاری اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صورتحال دوبارہ بڑے تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔