سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کو بڑی سفارتی کامیابی، عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کے آبی اختیارات محدود کر دیے

Spread the love

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration) کے ضمنی فیصلے پر “مکمل اطمینان” کا اظہار کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک اہم سفارتی اور قانونی کامیابی قرار دیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دریاؤں پر بھارت کے آبی کنٹرول کی صلاحیت پر “نمایاں حدود” عائد کر دی گئی ہیں۔

حکومتی بیان کے مطابق یہ فیصلہ رَٹل اور کشن گنگا ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن تنازعات سے متعلق تھا، جہاں “زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش” (Maximum Pondage) کے معاملے پر پاکستان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ بھارت معاہدے کی حدود سے تجاوز نہیں کر سکتا۔

بیان میں کہا گیا کہ 15 مئی کو جاری کیے گئے ضمنی ایوارڈ نے پاکستان کے قانونی مؤقف کی توثیق کی ہے، اگرچہ ثالثی عدالت نے تاحال مکمل فیصلہ عوامی سطح پر جاری نہیں کیا۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھارت ماضی میں بھی عدالت کی تشکیل اور کارروائی پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں دیے گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ فیصلہ پاکستان کے لیے نہ صرف قانونی بلکہ سفارتی سطح پر بھی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے مقبوضہ کشمیر میں متنازع آبی منصوبوں پر بھارت کی صوابدیدی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔