ایران جنگ میں امریکہ کو بڑا نقصان، 42 جنگی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر ہونے کا انکشاف

Spread the love

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

واشنگٹن /نیوز اینڈ نیوز

واشنگٹن: ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران امریکہ کو فضائی محاذ پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکی کانگریس سے وابستہ غیرجانبدار تحقیقی ادارے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 40 روزہ جنگی مہم کے دوران امریکی فضائیہ کے 42 طیارے اور ڈرون تباہ، گر کر تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق یہ فوجی مہم 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی اور اس دوران لڑاکا طیاروں، نگرانی کرنے والے جہازوں، ایندھن بردار طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور جدید ڈرونز کو مختلف نوعیت کے نقصانات پہنچے۔ امریکی محکمہ دفاع نے اب تک نقصانات کی مکمل سرکاری تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سی آر ایس کی رپورٹ کو اب تک کی سب سے جامع عوامی دستاویز قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا، دفاعی جریدوں اور عسکری مبصرین کے مطابق رپورٹ میں شامل معلومات پینٹاگون کے بیانات، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی تفصیلات اور مختلف جنگی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ رپورٹ کو امریکی کانگریس میں بھی خاص توجہ حاصل ہوئی ہے کیونکہ اس میں پہلی مرتبہ جنگی اخراجات اور نقصانات کی تفصیلی تصویر سامنے آئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے جدید ترین ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیاروں میں سے چار شدید متاثر ہوئے۔ ان میں سے تین طیارے مبینہ طور پر کویت کی فضائی حدود میں “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے، جبکہ ایک ایف 15 ای ایران کے اندر جنگی کارروائی کے دوران تباہ ہوا۔ خوش قسمتی سے ان تمام واقعات میں پائلٹس نے بروقت ایجیکٹ کر کے جان بچالی۔

اسی طرح ایک جدید ایف 35 اے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کو بھی ایرانی زمینی دفاعی نظام سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کا اے 10 تھنڈربولٹ حملہ آور طیارہ 3 اپریل کو دشمن کی فائرنگ کے باعث تباہ ہوا، تاہم اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔

امریکی حکام کے مطابق جنگی اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کے قائم مقام کمپٹرولر جولز ڈبلیو ہرسٹ نے کانگریس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جن میں بڑی رقم تباہ یا متاثر ہونے والے عسکری سازوسامان کی مرمت اور تبدیلی پر خرچ کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ایران کے دفاعی نظام نے امریکی فضائی آپریشنز کیلئے غیر متوقع چیلنجز پیدا کیے۔ ایرانی میزائل سسٹمز، ڈرون حملوں اور فضائی نگرانی کے جدید نیٹ ورک نے کئی مواقع پر امریکی کارروائیوں کو متاثر کیا، جس کے باعث امریکی فوج کو اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ جدید فضائی جنگی حکمتِ عملی، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل دفاعی نظام کے حوالے سے ایک اہم موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ کو عسکری برتری حاصل رہی، لیکن ایران نے محدود وسائل کے باوجود سخت مزاحمت کر کے واشنگٹن کو بھاری مالی اور تکنیکی نقصان پہنچایا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس رپورٹ کے بعد امریکی کانگریس میں جنگی اخراجات، مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی اور فوجی مداخلتوں پر نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے، جبکہ امریکی عوام میں بھی اس جنگ کی قیمت اور نتائج پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔