متعدد قتل کے مقدمات میں مسلسل عمر قید کی سزائیں برقرار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

Spread the love

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ایک سے زائد افراد کے قتل کے مقدمات میں عمر قید کی سزاؤں کو بیک وقت چلانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے، کیونکہ اس سے متعدد جانیں لینے کے جرم کی سنگینی کم ہو جاتی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک شخص اور کئی افراد کے قتل کو ایک ہی نوعیت کا جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کی، جبکہ بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔ عدالت نے لاہور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں قیدی قیصر عباس کو دو خواتین کے قتل کے جرم میں دو الگ الگ عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور حکم دیا گیا تھا کہ دونوں سزائیں یکے بعد دیگرے پوری کی جائیں گی۔

مقدمے کے مطابق قیصر عباس پر الزام تھا کہ اس نے جون 2011 میں لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں فائزہ بی بی اور ابیہ کو قتل کیا۔ پراسیکیوشن کے مطابق وقوعے سے ایک ماہ قبل مقتولہ فائزہ بی بی اور ملزم کی بہن کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جس کی رنجش پر یہ قتل کیے گئے۔

ٹرائل کورٹ نے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302(b) کے تحت دو مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بھی سزا برقرار رکھی، جس کے خلاف ملزم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مؤکل سزا کے خلاف نہیں بلکہ صرف اس بات کا خواہاں ہے کہ دونوں عمر قید کی سزائیں ایک ساتھ چلائی جائیں۔ وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 35(a) اور ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک مقدمے میں ایک سے زیادہ عمر قید کی سزائیں مسلسل نہیں چل سکتیں۔

دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جرم انتہائی سنگین اور سفاکانہ نوعیت کا تھا، اس لیے کسی رعایت کی گنجائش موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعدد قتل کے مقدمات میں سزائیں بیک وقت چلائی جائیں تو اس سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور جرم کی شدت کم محسوس ہوگی۔

اپنے تفصیلی فیصلے میں جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے قرار دیا کہ قانون کا بنیادی مقصد نہ صرف جرم کی سزا دینا بلکہ معاشرے میں انصاف اور توازن برقرار رکھنا بھی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر کئی افراد کے قتل پر صرف ایک ہی سزا مؤثر رہ جائے تو یہ اضافی جرائم کی اہمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ہر انسانی جان کی الگ حیثیت اور وقعت ہے، لہٰذا متعدد قتل کے مقدمات میں ہر جرم کی سزا کو الگ انداز میں نافذ ہونا چاہیے تاکہ قانون کی عملداری اور انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔