

محمود احمد May23,2026
کٹھمنڈو/ نیوز اینڈ نیوز
دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے دو بھارتی کوہ پیما واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے، جبکہ رواں سیزن میں ایورسٹ پر بڑھتی سرگرمیوں کے باعث کوہ پیماؤں کی حفاظت سے متعلق خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق بھارتی کوہ پیما ارون تیواری اور سندیپ آرے نے کامیابی کے ساتھ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کی، تاہم واپسی کے سفر میں شدید تھکن، خراب موسمی حالات اور جسمانی کمزوری کے باعث دونوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایکسپیڈیشن آپریٹرز ایسوسی ایشن نیپال کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری کے مطابق سندیپ آرے کو “بالکونی” کے مقام سے “ساؤتھ کول” تک منتقل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ راستے میں دم توڑ گئے۔ دوسری جانب ارون تیواری “ہلیری اسٹیپ” کے قریب شدید جسمانی تھکن کا شکار ہوئے، جہاں موجود چار شیرپا گائیڈز نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ماہرین کے مطابق ماؤنٹ ایورسٹ پر واپسی کا مرحلہ سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ چوٹی سر کرنے کے بعد آکسیجن کی کمی، سخت موسم اور جسمانی توانائی ختم ہونے کے باعث حادثات کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
نیپال کی سیاحتی اتھارٹی کے مطابق رواں سال ایورسٹ سر کرنے کے لیے غیر معمولی تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ صرف ایک روز میں ریکارڈ 274 کوہ پیما دنیا کی بلند ترین چوٹی تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ مجموعی طور پر اس سال تقریباً 500 پرمٹ جاری کیے گئے، جو 1953 کے بعد بلند ترین تعداد قرار دی جا رہی ہے۔
کوہ پیمائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایورسٹ پر بڑھتی ہوئی رش، محدود موسمی وقت اور بلند مقامات پر انسانی دباؤ مستقبل میں مزید خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے نیپالی حکام پر زور دیا ہے کہ کوہ پیماؤں کی تعداد، حفاظتی اقدامات اور ریسکیو سہولیات کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔