ایران نے امریکہ کے ساتھ اصولی فریم ورک کی تصدیق کر دی، حتمی معاہدہ ابھی دور ہے: ایرانی وزارتِ خارجہ

Spread the love

منصور احمد ,May 25,2026

تہران /نیوز اینڈ نیوز

ایران نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات کے حوالے سے باضابطہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم نکات پر ایک اصولی فریم ورک یا ابتدائی مفاہمت طے پا چکی ہے، تاہم حتمی امن معاہدہ تاحال مکمل طور پر قریب نہیں پہنچا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مذاکرات حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن اس وقت کسی بھی حتمی معاہدے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر مذاکرات کا محور جوہری پروگرام نہیں بلکہ خطے میں جاری کشیدگی، جنگ بندی اور امن کا قیام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ہم اس وقت جوہری مسئلے کی تفصیلات پر بات نہیں کر رہے، ہماری توجہ صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار استحکام پر مرکوز ہے۔

ایرانی ترجمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور مغربی میڈیا کی رپورٹنگ پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی سیاست میں دباؤ، دھمکیوں، میڈیا مہم اور نفسیاتی حربوں کو سیاسی کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ایران ان حربوں سے متاثر نہیں ہوتا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’’ہم کسی کے پروپیگنڈے یا سیاسی دباؤ سے مرعوب نہیں ہوتے۔ ایران زمینی حقائق اور عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔ ہم بیانات سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر فیصلہ انتہائی سوچ بچار اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا۔

خطے کی حالیہ صورتحال اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران جلد بازی یا دباؤ میں کوئی اقدام نہیں کرے گا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک ’’مہذب، باوقار اور طاقتور ملک‘‘ ہے اور وہ اپنے دشمنوں کے انداز کی نقل نہیں کرے گا بلکہ اپنی حکمتِ عملی کے مطابق ردعمل دے گا۔ ان کے مطابق ایران ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔