حکومت کا واپڈا سکیورٹی فورس بنانے کا فیصلہ، چینی ماہرین اور آبی منصوبوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے گا

Spread the love

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد /نیوز اینڈ نیوز

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں اہم آبی منصوبوں، ڈیمز، پاور پلانٹس اور ان منصوبوں پر کام کرنے والے انجینئرز و عملے، خصوصاً چینی ماہرین کی سکیورٹی مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی ’’واپڈا سکیورٹی فورس‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’واپڈا سکیورٹی فورس ایکٹ 2026ء‘‘ پارلیمنٹ کو منظوری کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق نئی فورس کا بنیادی مقصد واپڈا کے زیرِ انتظام اہم آبی و توانائی منصوبوں، تنصیبات اور حساس انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا ہے تاکہ قومی ترقیاتی منصوبوں پر بلا تعطل کام جاری رکھا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ خصوصاً داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد کیا گیا، جہاں نومبر 2021ء اور مارچ 2024ء میں ہونے والے حملوں میں متعدد پاکستانی اور چینی انجینئرز و کارکنان جاں بحق ہوئے تھے۔ ان حملوں کے بعد منصوبے پر کام ایک طویل عرصے تک معطل بھی رہا تھا۔

حکام کے مطابق ماضی میں چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک سے منسلک منصوبوں کی سکیورٹی کے لیے پاک فوج کی خصوصی سکیورٹی ڈویژنز تعینات کی گئی تھیں، تاہم واپڈا کے تمام منصوبے اس دائرہ کار میں شامل نہیں تھے، جس کے باعث الگ سکیورٹی نظام کی ضرورت محسوس کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ نئی واپڈا سکیورٹی فورس ڈیمز، ہائیڈرو پاور پلانٹس، تعمیراتی مقامات، حساس تنصیبات اور منصوبوں پر کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی ماہرین کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ اس فورس کو جدید تربیت، اسلحہ اور نگرانی کے نظام سے بھی لیس کیا جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں جاری بڑے آبی اور توانائی منصوبے ملکی معیشت، بجلی کی پیداوار اور مستقبل کی صنعتی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے ان کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سرکاری حلقوں کے مطابق نئی فورس کے قیام سے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اقتصادی و توانائی تعاون کو بھی مزید استحکام ملے گا۔