

محمود احمد, JULY 09,2026
اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 9 جولائی 2026ء
ایران نے امریکا کی جانب سے ایک بار پھر کی جانے والی مبینہ جارحانہ کارروائیوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور سمیت تمام بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے سفیر امیر سعید ایروانی نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش اور جولائی کے مقتدر مہینے کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باقاعدہ خط ارسال کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر جنوبی ایران میں واقع شہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے ہیں۔ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی یہ نئی جارحانہ کارروائیاں اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ ۲ (۴) کی کھلی خلاف ورزی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق ۱ کی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی مندوب سفیر امیر سعید ایروانی نے اپنے مقتدر خط میں تزویراتی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ سویلین اور شہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور ایران کی خودمختاری کے خلاف طاقت کا مسلسل و غیر قانونی استعمال بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین ترین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاندانہ اقدامات امریکا کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے مکمل انحراف اور توہین کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایرانی مندوب نے اپنے مقتدر بیانیے میں اس بات کا پرزور اعادہ کیا کہ ایران یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ امریکا کی طرف سے طاقت کے اس غیر قانونی استعمال، اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تمام تر سنگین نتائج اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کی تمام تر اخلاقی و قانونی ذمہ داری براہِ راست امریکا پر عائد ہوتی ہے۔