بھارت کی جانب سے آبی اعدادوشمار روکنا اور پاکستانی خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، امریکی ماہر لاری واٹکنز

Spread the love

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔

لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔

عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔