سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور خطے کے لیے تزویراتی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا سیمینار سے مقتدر خطاب

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) کو غیر قانونی طور پر معطل کر کے نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے بلکہ پورے خطے کو ایک ہولناک تنازعے کے خطرے سے بھی دوچار کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کی جانب سے وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کی اختتامی اور مقتدر نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ٹرانس باؤنڈری دریا ممالک کے مابین فاصلے بڑھانے کے بجائے انہیں قریب لانے کا تزویراتی ذریعہ ہونے چاہئیں؛ پاکستان نے اسی مثبت جذبے کے تحت ماضی میں بڑی رعایتیں دے کر یہ معاہدہ کیا تھا تاکہ خطے میں طویل المدتی استحکام فراہم ہو سکے، تاہم بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی اور مشترکہ آبی وسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون سے انکار انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی دہلی کو پانی بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دے۔

سیمینار کے مختلف سیشنز سے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور سابق سینیئر وزراء نے بھی مقتدر خطاب کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے تزویراتی عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی میں بھارت کے ہر غیر قانونی اقدام کو پاکستان کے خلاف “جنگی اقدام” (Act of War) تصور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں تو سندھ طاس کی معطلی پر خطے میں پائیدار امن کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا مطالبہ بھی کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دریائے سندھ پر پاکستانیوں کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور بھارت کی غیر قانونی کوششوں سے عالمی سطح پر خود اس کی سبکی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اسے صرف پانی کا نہیں بلکہ “انصاف کا بحران” قرار دیا جس سے پاکستان میں موسمیاتی چیلنجز سنگین ہو رہے ہیں۔

سیمینار کے دوران سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر نے بھارت کی جانب سے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر بھارت اس مقتدر پابندِ معاہدہ سے بچ نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معروف قانون دان احمر بلال صوفی نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت بھارت پانی پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود معاہدے کی خلاف ورزی کا کھلا اعتراف ہے جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا حق حاصل ہے۔ سابق صدر این ڈی یو لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض اور پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ نے مقتدر شواہد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت آرٹیکل IX کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کو ہوا میں اڑا کر ڈیٹا کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین نے بھی اس موقع پر پاکستانی موقف کی بھرپور تائید کی۔ بیجنگ سے آئے سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گا نے سندھ طاس کی معطلی کو “انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ بھارت خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر پانی روکنے کا تزویراتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کو مؤثر طریقے سے روک سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو کی ڈاکٹر روکسلانا زیگون نے بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کو سراہا۔ امریکی ماہر لاری واٹکنز نے بھی ڈیٹا روکنے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے اپنے اختتامی کلمات میں واضح کیا کہ آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح کے مطابق مکمل عمل درآمد میں ہی مضمر ہے۔

بھارت کی جانب سے آبی اعدادوشمار روکنا اور پاکستانی خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی ہے، امریکی ماہر لاری واٹکنز

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

امریکی مصنفہ و عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریائوں کے بہائو سے متعلق اہم ترین تزویراتی اعدادوشمار کو روکنا اور پاکستان کی باضابطہ تحریری مراسلت کا جواب نہ دینا بین الاقوامی قانون کے مسلمہ اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، کیونکہ کوئی بھی ریاست کسی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دے کر اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت کے جناح کنونشن سینٹر میں انسٹیٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیرِ اہتمام ’’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹرز ٹریٹی) بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی و تاریخی کامیابیوں میں سے ایک ہے جو 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔

لاری واٹکنز نے اپنے خطاب میں تزویراتی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں دریائوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدے بنیادی طور پر تنازعات کو روکنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں جبکہ اس ضمن میں قائم “مستقل انڈس کمیشن” عالمی معیار کے مطابق ایک غیر معمولی اور انتہائی قابلِ قدر ادارہ ہے، جس کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا ایک مربوط، مرحلہ وار اور مقتدر نظام مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے حقائق کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں بھارت کو دریائے چناب کے پانی کے بہائو کے بارے میں متعدد باضابطہ خطوط ارسال کیے، تاہم بھارت نے دریائوں کے غیر مستقل بہائو کے بارے میں ضروری معلومات اور اعدادوشمار فراہم نہیں کیے اور پاکستان کی تحریری مراسلت کا کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ محض ایک روایتی، انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں ہے بلکہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ جب آبی معلومات کا تبادلہ رک جائے تو فریقین کے مابین شدید بداعتمادی، غلط اندازے اور بالآخر عسکری و سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔

عالمی پالیسی ماہر نے زور دیا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت اور پائیداری رابطوں کے مستقل تسلسل میں مضمر ہوتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ بھارت نے چالبازی دکھاتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل قرار دیا ہے، تاہم اس کے باوجود دریائوں کے بہائو سے متعلق معلومات روکنا اور پڑوسی ملک کے مقتدر خطوط کا جواب نہ دینا بین الاقوامی عرفی قانون کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ لاری واٹکنز نے بین الاقوامی قوانین کی یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ “ویانا کنونشن برائے قانون معاہدات” کے مطابق تمام عالمی معاہدوں پر دستخط کنندگان کی جانب سے ہمیشہ نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، لہٰذا بھارت پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احترام کرے تاکہ خطے کا امن اور تزویراتی استحکام برقرار رہ سکے۔