بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، حافظ طاہر اشرفی

Spread the love

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، فرقہ وارانہ امن اور مختلف مذاہب کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام شہریوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ کرنا ریاست کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور قومی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے، اور معاشرے میں سماجی اتحاد، رواداری اور برداشت کے فروغ کے لیے تمام طبقات کو مل کر مقتدر کردار ادا کرنا چاہیے۔

چیئرمین علماء کونسل نے صبر، برداشت اور باہمی احترام کو دیرپا امن کے قیام کے لیے کلیدی اقدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ اور پُرعزم کوششیں کرنا ہوں گی، تاکہ ملک کے اندر اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے آئین نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کی ہے، اور اسی تزویراتی پالیسی کے تحت سکھ برادری سمیت دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے محفوظ و پرامن ماحول مہیا کیا جا رہا ہے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید بتایا کہ ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے مقتدر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام متعلقہ ادارے بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کو ان کے دوروں کے دوران ہر ممکن سفارتی و انتظامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے اپنے مقتدر بیان کا اختتام اس عزم پر کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام برادریوں کے درمیان باہمی احترام کا فروغ حکومت اور ریاست کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ مذہبی مقامات پر بہتر انتظامات اور سیکیورٹی کی فراہمی دراصل رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے جاری مقتدر کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔