ملک کی معاشی صورتحال سنگین، مشکلات میں کمی نہیں اضافہ نظر آ رہا ہے، بلاول بھٹو زرداری

Spread the love

محمود احمد May14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال انتہائی سنگین ہے اور عوام کو مہنگائی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات میں مزید اضافہ نظر آ رہا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے تعلق رکھنے والے پارٹی ارکان نے شرکت کی۔ اجلاس میں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہوئیں۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ کی منظوری ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان رابطے جاری رہتے ہیں، تاہم حکومت نے نئی آئینی ترمیم کے معاملے پر اب تک پیپلز پارٹی سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم میں پیپلز پارٹی کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے صوبوں کے حقوق کم نہیں ہونے دیے بلکہ مزید اختیارات دلوائے، جبکہ بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی بھی بڑھائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اور پیپلز پارٹی نے وفاقی و صوبائی سطح پر مسلسل ان مسائل کو اٹھایا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب وزیراعظم نے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا تو پیپلز پارٹی نے اس کا خیر مقدم کیا، جبکہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ریلیف دینے کے فیصلے کی تمام صوبوں نے حمایت کی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بے نظیر مزدور کارڈ کے ذریعے لاکھوں کسانوں کی مدد کی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر پاکستان کے مؤقف کا دفاع کیا، جبکہ جنگ کے بعد وزیراعظم نے ان سے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کا مکمل ساتھ دیا کیونکہ قومی معاملات پر تمام پاکستانی متحد ہو جاتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہو بھی جائے تو معاشی مشکلات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گی، اس لیے حکومت کو آئندہ بجٹ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھ کر بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سینئر کمیٹی بجٹ تجاویز حکومت کے سامنے پیش کرے گی، جس کے لیے راجہ پرویز اشرف، سلیم مانڈوی والا، شیری رحمان اور نوید قمر پر مشتمل چار رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔

نیب ترامیم کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی تاریخی طور پر نیب کے خاتمے کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مجبوریوں کے باعث نئی ترامیم میں ساتھ دیا، تاہم اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو پارٹی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور یہ ملک کے مفاد میں بنائی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے ساتھ پاکستان اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کئی نسلوں پر محیط ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے ایران پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد سب سے زیادہ میزائل حملے متحدہ عرب امارات پر ہوئے، جن کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل خطے میں امن کے قیام کی کوششوں میں کامیاب ہوں گے۔