
چترال (انٹرنیشنل پریس ایجنسی/نیوز اینڈ نیوز)
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت گولی اور گالی کی سیاست عام ہو چکی ہے جبکہ تعلیم مہنگی اور طبقاتی نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ہر شعبہ کرپشن اور اقربا پروری کے زیر اثر ہے۔
چترال میں بنو قابل پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت جاری مفت آئی ٹی تربیتی پروگرام “بنو قابل” ایک گیم چینجر منصوبہ بن چکا ہے، جس کے تحت اب تک چودہ لاکھ پچاس ہزار سے زائد بچے رجسٹر ہو چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہزاروں طلبہ و طالبات مختلف تربیتی کورسز میں داخلہ لے رہے ہیں اور کامیاب امیدواروں کو جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بنو قابل پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھاتے ہوئے اب اس میں ٹیکنیکل کورسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں آئی ٹی لیبارٹریز قائم کی جا چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کو مزید وسعت دے کر اسے “زی کنیکٹ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کو دین اور جدید تعلیم سے آراستہ کر کے ملک و قوم کی خدمت کے قابل بنایا جا رہا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام جن مقاصد کے لیے عمل میں آیا تھا، بدقسمتی سے وہ آج تک حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق ملک میں اشرافیہ، جاگیردار اور وڈیرے نظام پر قابض ہیں جبکہ عوام کو انصاف اور بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے چترال کے مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور حکمران جماعتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کوشاں ہے اور نوجوانوں کو اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے۔