

محمود احمد May16,2026
کراچی: سٹی کورٹ کراچی کی اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمہ نے دورانِ سماعت پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کے تشدد یا ناروا سلوک کی کوئی شکایت نہیں کی۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی ہے اور اس کیس میں مزید شواہد و ملزمان تک پہنچنے کے لیے اس کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کے پاس سے بھی مبینہ طور پر وہ منشیات برآمد ہوئی جو ملزمہ سے منسوب کی جا رہی ہیں، جس سے تفتیشی ٹیم کے مطابق اس کے نیٹ ورک سے تعلق کا شبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی نوعیت سنگین ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے ملزمہ سے تفتیش ناگزیر ہے۔
عدالت نے ابتدائی شواہد اور تفتیشی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر بغدادی پولیس کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ اسے دوبارہ 18 مئی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ تفتیش شفاف طریقے سے مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی شواہد بظاہر ملزمہ کے خلاف ہیں، تاہم حتمی فیصلہ مکمل تفتیش کے بعد ہی کیا جائے گا۔
دوسری جانب کراچی پولیس کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بھی کیس کی پیشرفت کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس میں ایف آئی اے، اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط لکھنے اور مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس اور ممکنہ نیٹ ورک کی تفصیلی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی طے پایا کہ نیٹ ورک سے منسلک افراد کے بیانات حاصل کیے جائیں گے تاکہ پورے کارٹیل تک پہنچا جا سکے