روحانیت اور سفارت کاری کا مقتدر سنگِ میل: داتا گنج بخشؒ کے 983ویں سالانہ عرس کی تقریبات کا آغاز، پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے والے خود تنہا ہو گئے، نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار

Spread the love

کاشف عباسی ,june 25,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

برصغیر پاک و ہند کی عظیم مقتدر روحانی شخصیت حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے 983ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روزہ روایتی تقریبات کا باقاعدہ آغاز جمعرات کے روز مزارِ اقدس کو غسل دینے کی پروقار تقریب سے ہو گیا ہے۔ مہمانِ خصوصی نائب وزیرِ اعظم اور وفاقی وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مزارِ انور کو عرقِ گلاب سے غسل دیا اور روایتی چادر پوشی کی۔ غسل کی اس مقتدر تقریب میں صوبائی وزراء بلال یاسین، خواجہ سلمان رفیق، اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے معاونِ خصوصی علی ڈار سمیت جید علماء و مشائخ اور ملک بھر سے آئے ہوئے مقتدر زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ معروف نعت خوانوں نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے نذرانے پیش کیے۔

غسل کی تقریب کے بعد نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے داتا دربار کمپلیکس میں میڈیا کے نمائندوں سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف، قائدِ مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پوری قوم کو عرس کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے داتا دربار کی وسیع مقتدر توسیع کا سہرا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور ان کی ٹیم کے سر باندھا۔ اس موقع پر میڈیا کو اہم ترین عالمی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی کو ختم کرانے اور دونوں ممالک کو 47 سال بعد مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے انتہائی مقتدر اور تاریخی ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے سفارتی رازوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے معاملے پر ہمارا بنیادی کام سہولت کاری (فیسیلیٹیشن) تھا، اور بطور سہولت کار ہم اس کی تشہیر نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم، اب جب اس مقتدر معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہو چکے ہیں، تو حکومت نے اس تاریخی دستاویز کو قومی اسمبلی کے ریکارڈ پر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب پاکستان نے اس میزبانی کی آفر کی تو بعض عالمی حلقوں نے دوری کا عذر پیش کیا، مگر ہم سب کو ‘اسلام آباد میمورنڈم’ کے اس عظیم سفارتی معرکے پر فخر ہونا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے تاریخی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 18 جون کو جی سیون (G7) کے مقتدر اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیں، جس کے بعد وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے بھی اس تاریخی ایران امریکہ امن معاہدے پر دستخط کیے۔

انہوں نے اپوزیشن اور ناقدین کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جس کے بارے میں یہ منفی پراپیگنڈا کیا جاتا تھا کہ وہ سفارتی طور پر تنہا ہو چکا ہے، اب اس عظیم کامیابی کے بعد دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ حقیقت میں تنہا کون ہوا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ رواں سال 28 فروری کو جب ایران پر حملہ ہوا تھا تو پاکستان نے اس کی مقتدر اور بھرپور مذمت کی تھی۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر ایٹمی قوت بنایا ہے اور اب ہماری حکومت کا مشن اسے ایک عظیم معاشی قوت بنانا ہے۔ ہم ایک مقتدر امن پسند قوم ہیں لیکن اپنا دفاع کرنا اچھے سے جانتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں ورثے میں انتہائی مخدوش معاشی صورتحال ملی تھی، جس کو اب کافی حد تک ٹھیک کر لیا گیا ہے اور موجودہ متوازن بجٹ میں تنخواہ دار طبقے سمیت تاجر برادری کو ہر ممکنہ ریلیف منتقل کر دیا گیا ہے۔