ریاستی رٹ اور عوامی یکجہتی: چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس سے کالعدم کمیٹی کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب، عوام کی بھرپور تائید

Spread the love

منصور احمد june 25,2026

مظفر آباد/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس آزاد کشمیر کی حالیہ مقتدر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد ریاست مخالف کالعدم کمیٹی کا جھوٹا اور گمراہ کن بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے، جس پر آزاد جموں و کشمیر کے غیور عوام نے حکومتی مؤقف کی بھرپور اور مقتدر تائید کا اعلان کیا ہے۔ آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے شہریوں اور عمائدین نے اعلیٰ حکام کی پریس کانفرنس پر اپنے گہرے ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس نے کالعدم کمیٹی کے من گھڑت پراپیگنڈے کو ٹھوس دستاویزی اور مقتدر ثبوتوں کے ساتھ پبلک کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا ہے۔

شہریوں نے حقائق پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ راولاکوٹ ہسپتال کے افسوسناک واقعے میں قانون ہاتھ میں لینے اور اشتعال انگیزی کی پہل خود کالعدم کمیٹی کے کارندوں نے کی تھی، جبکہ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جوابی و مقتدر کارروائی کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ان انتشار پسند اور مقتدر عناصر نے معصوم مقامی نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھمائے اور انہیں دانستہ طور پر ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف صف آراء کر کے اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی۔

آزاد کشمیر کے مقتدر شہریوں نے پریس کانفرنس کے دوران الحاقِ پاکستان کے خلاف اٹھنے والے کسی بھی غیر آئینی مطالبے یا بیانیے کو “ریڈ لائن” قرار دینے کے ریاستی مؤقف کی سو فیصد حمایت کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ پاکستان سے لازوال وابستگی اور محبت کشمیری عوام کے ایمان، نظریے اور اجتماعی شناخت کا مقتدر حصہ ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی نوعیت کے قانونی یا انتظامی معاملات کو ڈنڈے کے زور پر یا بلیک میلنگ سے حل نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ اب شعور مند عوام اس شرپسند کمیٹی کے منفی ایجنڈے سے مکمل دوری اختیار کر رہے ہیں۔ شہریوں نے شرپسند عناصر کے خلاف کھل کر اور جرات مندانہ مقتدر مؤقف اپنانے پر چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا، جبکہ عوامی حلقوں کی یہ تائید اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اور عوام امن و سلامتی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔