ملک بھر میں 364 شکایات درج، مگر محدود مقدمات ہی ایف آئی آرز میں تبدیل ہو سکے
لاہور: نیوز اینڈ نیوز
لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے نے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ زیرِ حراست تشدد اور مبینہ حراستی اموات سے متعلق سب سے زیادہ شکایات پنجاب سے موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں ایسے کیسز کی تعداد نمایاں طور پر زیادہ ہے، تاہم ملک بھر میں موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف محدود تعداد کو باقاعدہ فوجداری مقدمات میں تبدیل کیا جا سکا۔
عدالت میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 30 اپریل 2026ء تک وفاقی تحقیقاتی ادارے نے “تشدد اور حراستی اموات کی روک تھام و سزا قانون 2022ء” کے تحت ملک بھر میں مجموعی طور پر 364 انکوائریاں درج کیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سب سے زیادہ 266 انکوائریاں شروع کی گئیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 48، سندھ میں 33، اسلام آباد میں 15 اور بلوچستان میں 2 کیسز رپورٹ ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق شکایات کی بڑی تعداد کے باوجود پنجاب اور سندھ میں باقاعدہ مقدمات کی تعداد برابر رہی، جہاں دونوں صوبوں میں 19،19 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ خیبرپختونخوا اور اسلام آباد میں 6،6 مقدمات درج ہوئے، جبکہ بلوچستان میں سامنے آنے والی دونوں شکایات کو ایف آئی آرز میں تبدیل کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیرِ حراست تشدد کے متعدد کیسز ابھی مختلف مراحل میں ہیں، جن میں تحقیقات، شواہد جمع کرنے اور قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرین اور گواہوں کے تحفظ، آزادانہ تحقیقات اور شفاف عدالتی کارروائی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی تاکہ حراستی تشدد کی روک تھام کے لیے موجودہ اقدامات اور قانون پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست تشدد کے واقعات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی، احتساب اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد سے پاک تفتیشی نظام ہی انصاف کے شفاف عمل کو یقینی بنا سکتا ہے