سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ تنازعات کی گونج، پاکستان کا اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر کے منصفانہ حل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ، سلامتی کونسل میں اصلاحات اور ویٹو پاور پر نظرثانی کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد june 06,2026

اقوام متحدہ، نیویارک(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال ۲۲۰۵ کی سالانہ رپورٹ میں جموں و کشمیر اور فلسطین جیسے طویل عرصے سے لٹکے ہوئے دیرینہ تنازعات کی مسلسل اہمیت کو انتہائی واضح طور پر اجاگر کیا گیا ہے، جو عالمی اور علاقائی امن و سلامتی پر مسلسل گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، نیویارک سے موصول ہونے والی سرکاری تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں سلامتی کونسل کی یہ سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے صراحت سے کہا کہ یہ دونوں بڑے تنازعات طویل عرصے سے عالمی ادارے کے ایجنڈے کا حصہ چلے آ رہے ہیں اور ان کے منصفانہ حل کے بغیر دنیا میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا، انہوں نے رپورٹنگ کے عرصے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت پاکستان سوال پر بیس سے زائد اہم مراسلات سلامتی کونسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پیش کیے گئے، جبکہ مئی ۲۰۲۵ میں اس حساس موضوع پر ایک اہم بند کمرہ مشاورت بھی منعقد کی گئی، کشمیر تنازع پر پاکستان کا اصولی مؤقف پیش کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب ہے اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر بدستور موجود ہے، پاکستان کے مطابق اس اہم مسئلے کا حتمی حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں و خواہشات کے مطابق ہی ہونا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن و استحکام جموں و کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی مشروط ہے اور اس کے لیے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے، پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ میں جاری سنگین انسانی بحران پر بھی ملک کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے ایک بڑی اور اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد ہونا بے حد ضروری ہے، پاکستان نے اس موقع پر ایک بار پھر ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی روایتی اور مخلصانہ حمایت کا اعادہ کیا جس کا مستقل دارالحکومت القدس الشریف ہو، سلامتی کونسل کی مجموعی کارکردگی اور اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس رپورٹ میں افریقہ، مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں جاری مختلف تنازعات کے علاوہ کئی موضوعاتی مسائل جیسے معصوم شہریوں کا تحفظ اور مسائل کا پرامن حل بھی شامل کیا گیا ہے، انہوں نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ تاریخی قرارداد ۲۷۸۸ کا خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد تنازعات کے ہمیشہ پرامن حل کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کی ایک بہترین عکاس ہے، سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو بتایا کہ پاکستان نے جولائی ۲۰۲۵ میں سلامتی کونسل کی اپنی صدارت کے دوران اس رپورٹ کے تعارفی حصے کی تیاری اور اس کی حساس مسودہ سازی کی اہم ذمہ داری انتہائی احسن طریقے سے انجام دی تھی اور اس کا بنیادی مقصد ایک جامع، مکمل غیر جانبدار اور عالمی اتفاقِ رائے پر مبنی شفاف رپورٹ تیار کرنا تھا، ملاقات اور خطاب کے آخری حصے میں پاکستان نے سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں فوری اصلاحات، کام میں شفافیت اور جوابدہی کی سخت ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے ویٹو کے استعمال پر بھی اب سنجیدہ غور ہونا چاہیے، انہوں نے پاکستان کا اصولی اور تاریخی مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا کہ ہماری پالیسی ”سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں“ کے اصول پر مبنی ہے، اور سیکیورٹی کونسل کی یہ اصلاحات کسی ایک ملک کے بجائے اقوام متحدہ کی وسیع تر رکنیت اور پوری دنیا کے مفاد میں ہونی چاہئیں۔