عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

Spread the love

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔