یکطرفہ اقتصادی اقدامات خودمختار مساوات اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے منافی ہیں؛ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 08,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی فورم پر کیوبا کے حق میں مقتدر آواز اٹھاتے ہوئے وہاں عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف کیوبا کے غیور عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات اور مصائب میں کمی لانے میں مقتدر حد تک مددگار ثابت ہوگا، بلکہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے بنیادی حق سے مستفید ہونے کا مساوی موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ اس اقدام سے کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے اصولوں کو بھی پائیدار تقویت ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت” کے اہم عنوان سے ہونے والے دوسرے مقتدر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کیوبا اور اس کے عوام پر عائد طویل پابندیوں کے منفی اثرات پر پاکستان کی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے اپنے دیرینہ و مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار مساوات اور باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ہی اصل میں عالمی نظام کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے تزویراتی انداز میں اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقتصادی اقدامات، خصوصاً جب انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی انداز میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ان تمام بنیادی عالمی اصولوں سے کھلم کھلا متصادم ہو جاتے ہیں، جن کی اجازت بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں دیتا۔

پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور زریں اصولوں، بالخصوص دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منشور کے باب ششم کے مقتدر قوانین کے مطابق تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کیا کہ وہ آپسی مسائل کے پائیدار حل کے لیے باہمی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤثر راستے کو اپنائیں اور اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ کوششیں مستقل جاری رکھیں۔

طویل تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے شکار علاقوں میں مظالم بین الاقوامی برادری کی سب سے بڑی ناکامی ہیں؛ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد, JULY 07,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 07 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک مضبوط اور تزویراتی موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کے فریم ورک کی سب سے بڑی ناکامی ان مخصوص حالات میں کھل کر نمایاں ہوتی ہے جہاں دہائیوں پرانے طویل تنازعات اور غیر ملکی غاصبانہ قبضے اب بھی جاری ہوں، اور بین الاقوامی برادری کی مسلسل توجہ کے باوجود معصوم انسانوں پر مظالم کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ذمہ داری برائے تحفظ اور نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم کی روک تھام” کے مقتدر عنوان سے منعقدہ اہم مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ دنیا کا کیا گیا “دوبارہ کبھی نہیں” کا تاریخی وعدہ آج بھی ادھورا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر اجتماعی مظالم کے شکار لاچار متاثرین کو نہ تو کوئی ذمہ داری میسر آ سکی ہے، نہ تحفظ اور نہ ہی انصاف مل پایا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ نسل کشی، جنگی جرائم، نسلی تطہیر اور انسانیت کے خلاف جرائم انسانیت کے بدترین اور سنگین ترین جرائم میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس میں ‘ذمہ داری برائے تحفظ’ کا یہ مقتدر اصول ایسے ہی سنگین ترین انسانی جرائم کی بیخ کنی اور روک تھام کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ تاہم، دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود آج یہ پورا فریم ورک شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جبکہ دنیا بھر میں مختلف تنازعات کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان کے مطابق، اجتماعی مظالم کی روک تھام کا مشترکہ اور تزویراتی مقصد اکثر اوقات عالمی سطح پر بے عملی، حقیقت سے انکار، انتخابی رویوں اور ادارہ جاتی جمود کی نذر ہو جاتا ہے۔

سال دو ہزار پانچ کے عالمی سربراہی اجلاس کے نتائج پر مشتمل مقتدر دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عاصم نے کہا کہ ذمہ داری برائے تحفظ کا بنیادی تصور ریاستوں کی اپنی اندرونی ذمہ داری اور بین الاقوامی برادری کی مجموعی اجتماعی ذمہ داری کے درمیان ایک توازن پر مبنی تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو ممالک ماضی میں متنازع نظریات کے تحت کارروائیوں کے سخت حامی تھے، آج وہ رکن ممالک کی متفقہ اجتماعی ذمہ داری کو پوری کرنے سے صاف گریزاں ہیں۔ انہوں نے مقتدر فورم کو بتایا کہ دنیا میں قابض طاقتیں سنگین ترین جرائم کے ارتکاب کے باوجود جوابدہی سے مکمل محفوظ رہتی ہیں، جبکہ بعض دیگر حالات میں حکومتوں کی جانب سے اپنے عوام کے تحفظ اور مستقل امن کی بحالی کی مخلصانہ کوششوں کو بیرونی سیاسی و اقتصادی دباؤ، بیرونی مداخلت اور باغی و دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے ذریعے جان بوجھ کر کمزور کیا جاتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے مقتدر انداز میں زور دیا کہ اگر اس اصول کو ایک معتبر انسانی اصول کے طور پر زندہ رکھنا ہے، تو اس پر اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق، یکساں، مستقل اور کسی بھی دوہرے معیار کے بغیر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اجتماعی مظالم کی روک تھام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں ابتدائی انتباہی نظام، امن مشنز اور امن سازی کی کوششوں میں مستقل سرمایہ کاری شامل ہو۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود طویل المدتی اور دیریںہ تنازعات کو متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔ مزید برآں، انہوں نے نفرت انگیز تقاریر، غیر ملکیوں سے نفرت، اسلاموفوبیا اور دیگر انتہا پسند نظریات کا مؤثر مقابلہ کرنے کو ناگزیر قرار دیا، کیونکہ یہی عوامل دنیا میں امتیازی سلوک، تشدد اور اجتماعی مظالم کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے اختتامی کلمات میں سفیر عاصم نے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ان مقتدر مقاصد کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مستقل جاری رکھے گا۔

عالمی فورم پر پاکستان کا اہم موقف: سوڈان میں شہریوں پر حملوں کی شدید مذمت، شہریوں کے فوری تحفظ اور سوڈانی قیادت میں سیاسی عمل پر زور

محمود احمد june 27,2026

اقوامِ متحدہ/نیویارک (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 27 جون 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید خانہ جنگی پر عالمی فورم پر اپنا واضح تزویراتی موقف پیش کرتے ہوئے ریپڈ سپورٹ فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں اور شہری تنصیبات پر کیے جانے والے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی مظالم کے فوری خطرے سے خبردار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتحال پر منعقدہ اہم اجلاس سے پاکستان کا مقتدر قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بگڑتی ہوئی سلامتی اور مقتدر انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تین برس سے زائد عرصے سے جاری اس بھیانک تنازعے کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اسکولوں، ہسپتالوں، بازاروں اور عبادت گاہوں جیسی شہری زندگی کے لیے ناگزیر تنصیبات پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر “الابیض” کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کی بڑی تعداد میں عسکری کمک، زمینی حملے کے خدشات، اور دارفور سمیت سوڈان کے دیگر علاقوں میں اندھا دھند قتل، نسلی بنیادوں پر تشدد، جنسی جرائم اور جبری نقل مکانی جیسے سنگین مظالم کا ریکارڈ شدید تشویش کا باعث ہے، جو بڑے پیمانے پر انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے آر ایس ایف پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر الابیض پر حملے بند کرے، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کرے اور ڈرونز و جدید ہتھیاروں کا استعمال روکے جس سے شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے پورے سوڈان میں ضرورت مند افراد تک محفوظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امدادی کارکنوں اور سامان پر حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اصرار کیا کہ سوڈان کی خودمختاری، وحدت، علاقائی سالمیت اور قومی اداروں کا تحفظ ہر صورت ناگزیر ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام یا بیان سے گریز کریں جو سوڈان کے قومی اداروں کو کمزور کرے یا متوازی عسکری یا سیاسی ڈھانچوں کے قیام کی راہ ہموار کرے، کیونکہ ایسے اقدامات سے مسلح گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تنازع طول پکڑے گا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سوڈان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور چونکہ سوڈان کے امن و استحکام کا افریقی اور عرب خطوں کی سلامتی سے گہرا تعلق ہے، اس لیے یہاں استحکام کی بحالی عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی نمائندے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ پاکستان سوڈان کو دوبارہ آئینی نظام کی جانب واپس لانے کے لیے اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، عرب لیگ اور دیگر علاقائی شراکت داروں کی مقتدر کوششوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

جنرل اسمبلی کے اہم مباحثے میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا تزویراتی خطاب؛ دیرپا امن محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، سلامتی کی کامیابیوں کو معاشی بحالی سے جوڑنا ناگزیر، امن سازی فنڈ کی لچکدار مالی معاونت کی مقتدر حمایت، پریس ریلیز

محمود احمد june 26,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دیرپا امن و امان کے قیام کے لیے ایک بار پھر تزویراتی موقف اپناتے ہوئے اس بات پر گہرا زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں صرف روایتی امن مشنز کا بھیجنا کافی نہیں، بلکہ تنازعات کے آغاز ہی سے مستقل امن سازی کو عالمی عمل کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ امن مشنز سے امن سازی اور پھر متعلقہ ممالک کی قومی قیادت میں ترقی کے مرحلے تک مؤثر منتقلی کے لیے مستقل سیاسی عزم، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی برادری کی مربوط معاونت ناگزیر ہے۔

امن سازی اور پائیدار امن سے متعلق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مقتدر مباحثے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ امن سازی کمیشن کے قیام کو بیس برس مکمل ہو چکے ہیں، جس کا بنیادی مقصد تنازعات سے نکلنے والے پسماندہ ممالک کو امن کے پائیدار استحکام اور دوبارہ جنگ کی طرف جانے سے بچانے میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے زمینی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نہ امن برقرار رکھنے کے مواقع پہلے جیسے رہے ہیں اور نہ ہی امن کی تعمیر کے، جبکہ دوسری جانب محدود ہوتے ہوئے وسائل پر رکن ممالک کا مقابلہ بھی بڑھتا جا رہا ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ ہم امن سازی کے وعدے کو پورا کرنے کے لیے مجموعی صورتحال کا سنجیدگی اور جامع انداز میں جائزہ لیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے مقتدر خطاب میں اسٹریٹجک نکتہ اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امن کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے، جو تنازعات کی روک تھام، قیامِ امن، امن مشنز، تنازعات کے بعد بحالی اور مستقل امن سازی پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ تمام مراحل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور باہمی طور پر تقویت دینے والے ہیں۔ انہوں نے مصر اور سلووینیا کی سفارتی سہولت کاری میں مکمل ہونے والے “2025 پیس بلڈنگ آرکیٹیکچر ریویو” کے مقتدر نتائج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قومی ملکیت ، امن سازی کمیشن اور اقوامِ متحدہ کے مرکزی اداروں کے درمیان مضبوط روابط اور پورے یو این نظام میں بہتر ہم آہنگی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے مقتدر امن سازی فنڈ کے اہم کردار کو تسلیم کرتا ہے اور ان پروگراموں سے مستفید ہونے والے ممالک کے تجربات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بروقت اور لچکدار مالی و تکنیکی معاونت زمینی سطح پر حقیقی اور مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، جو اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں فوجی دستے فراہم کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور امن سازی کمیشن کا بانی رکن بھی ہے، نے خود اس امر کا مشاہدہ کیا ہے کہ سلامتی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ادارہ جاتی استحکام، قومی مفاہمت اور سماجی و معاشی بحالی کے ساتھ جوڑنا کس قدر ضروری ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشترکہ عالمی مقصد کے حصول کے لیے تمام رکن ممالک کے ساتھ مقتدر تعاون جاری رکھے گا۔

قراردادیں محض ارادوں کا اظہار نہیں بلکہ منشور کے تحت قانونی ذمہ داریاں ہیں، منتخب یا طویل عرصے تک عمل نہ ہونا کونسل کے اختیار کو کمزور کرتا ہے؛ مسئلہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر پر قراردادوں پر عمل نہ ہونا عالمی امن کے لیے بڑا دھچکا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر خطاب

محمود احمد june 25,2026

نیویارک/اسلام آباد (بین الاقوامی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان اور چین نے اپنی تزویراتی شراکت داری اور کثیرالجہتی سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک انتہائی مقتدر ‘آریا فارمولا’ اجلاس منعقد کیا ہے۔ اس خصوصی سفارتی بیٹھک نے دنیا بھر کے رکن ممالک کو ایک اہم اور تزویراتی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ کھل کر اس امر پر غور کریں کہ سلامتی کونسل اپنی منظور شدہ قراردادوں کے مکمل، مؤثر اور بغیر کسی امتیاز کے یکساں عملدرآمد کو کس طرح ہر قیمت پر یقینی بنا سکتی ہے۔

اس مقتدر اجلاس کو اقوامِ متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل خالد خیاری، سیکیورٹی کونسل رپورٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر محترمہ شملہ کندیاہ، اور انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مسٹر رچرڈ گوون نے اہم بریفنگز دیں۔ تمام مقررین نے اپنے مقالوں میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ قراردادوں پر ان کی روح کے مطابق من و عن عملدرآمد کرنا ہی دراصل سلامتی کونسل کی ساکھ، عالمی اختیار اور اس کی افادیت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کونسل کے فیصلوں کو زمینی حقائق میں تبدیل کرنے کے لیے قراردادوں کے ساتھ حقیقت پسندانہ مینڈیٹس، واضح طریقۂ کار، مسلسل لائیو نگرانی، مناسب مالی وسائل اور مضبوط سیاسی عزم کا ہونا ناگزیر ہے۔

اجلاس سے اپنے مقتدر خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے دوٹوک اور مقتدر الفاظ میں کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں محض رسمی ارادوں کا اظہار نہیں ہوتیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت تمام رکن ممالک پر عائد ہونے والی سخت قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ قراردادوں پر من پسند طریقے سے (سلیکٹو) عمل کرنا یا طویل عرصے تک انہیں سرد خانے کی نذر رکھنا خود کونسل کے عالمی اختیار کو شدید کمزور کرتا ہے، دیرینہ تنازعات کے حل میں بڑی رکاوٹ بنتا ہے اور مظلوم انسانوں کے مصائب میں ہولناک اضافہ کرتا ہے، جیسا کہ اس وقت فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کی مخدوش صورتحال میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ مضبوطی سے لڑتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعے سے متعلق سلامتی کونسل کی مقتدر قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث یہ اہم بین الاقوامی مسئلہ آج بھی حل طلب ہے، جس کے باعث خطے اور بین الاقوامی امن و سلامتی پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور معصوم کشمیری عوام مسلسل بدترین انسانی مشکلات اور مظالم کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے متعدد مقتدر اور عملی تجاویز پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ غیر نافذ یا جزوی طور پر نافذ قراردادوں کا سالانہ بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے، عملدرآمد کے واضح ڈیجیٹل اور سفارتی طریقے وضع کیے جائیں اور سیکریٹری جنرل کی مساعیِ جمیلہ کو کونسل کے فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اجلاس میں شریک سلامتی کونسل کے مستقل و غیر مستقل ارکان نے چین اور پاکستان کے اس مشترکہ اقدام کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ کونسل کو اپنے فیصلوں کے مستقل اور غیر جانبدار نفاذ کو یقینی بنانا چاہیے، جس سے پاک چین کثیرالجہتی تعاون کا وقار مزید بلند ہوا ہے۔