

محمود احمد, JULY 08,2026
اقوامِ متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 جولائی 2026ء
پاکستان نے عالمی فورم پر کیوبا کے حق میں مقتدر آواز اٹھاتے ہوئے وہاں عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا خاتمہ نہ صرف کیوبا کے غیور عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات اور مصائب میں کمی لانے میں مقتدر حد تک مددگار ثابت ہوگا، بلکہ انہیں ترقی اور خوشحالی کے بنیادی حق سے مستفید ہونے کا مساوی موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ اس اقدام سے کثیرالجہتی تعاون اور بین الاقوامی اشتراکِ عمل کے اصولوں کو بھی پائیدار تقویت ملے گی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت” کے اہم عنوان سے ہونے والے دوسرے مقتدر مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کیوبا اور اس کے عوام پر عائد طویل پابندیوں کے منفی اثرات پر پاکستان کی گہری تشویش کا کھل کر اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے پاکستان کے کثیرالجہتی نظام اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں سے اپنے دیرینہ و مقتدر عزم کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ خودمختار مساوات اور باہمی احترام پر مبنی بین الاقوامی تعاون اور کثیرالجہتی روابط ہی اصل میں عالمی نظام کی مضبوط بنیاد ہیں۔ انہوں نے تزویراتی انداز میں اس بات پر زور دیا کہ یکطرفہ اقتصادی اقدامات، خصوصاً جب انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف امتیازی انداز میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، تو یہ ان تمام بنیادی عالمی اصولوں سے کھلم کھلا متصادم ہو جاتے ہیں، جن کی اجازت بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں دیتا۔
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور زریں اصولوں، بالخصوص دنیا کی تمام ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے غیر مشروط احترام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے منشور کے باب ششم کے مقتدر قوانین کے مطابق تمام تر بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر یہ واضح کیا کہ وہ آپسی مسائل کے پائیدار حل کے لیے باہمی مکالمے اور سفارت کاری کے مؤثر راستے کو اپنائیں اور اس سلسلے میں اپنی مخلصانہ کوششیں مستقل جاری رکھیں۔







