اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے پارٹی کی موجودہ قیادت اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم ملاقات کے بارے میں خان خاندان کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی کی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے ملاقات سے متعلق نہ تو فیملی کو اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی قسم کی پیشگی اطلاع دی گئی۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ ملاقات میں عمران خان کے خاندان کا کوئی فرد شریک تھا۔ علیمہ خان کے مطابق اس ملاقات میں خان فیملی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کی جانب سے کسی کو اس کیلئے اختیار دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام معاملے سے متعلق سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خاندان کو اس ملاقات کے بارے میں مکمل بے خبری میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں شفافیت اور اعتماد ضروری ہے، خاص طور پر جب معاملہ پارٹی قیادت اور حکومتی شخصیات کے درمیان رابطوں کا ہو۔
سیاسی مبصرین کے مطابق علیمہ خان کے اس بیان کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے اندرونی معاملات اور پارٹی قیادت کے حکومتی رابطوں سے متعلق نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ بعض حلقے اس ملاقات کو سیاسی کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار بھی سامنے آ رہا ہے۔
تاحال بیرسٹر گوہر، سہیل آفریدی یا وزارتِ داخلہ کی جانب سے اس ملاقات کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔