بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں شدید جھڑپ، 25 دہشت گرد ہلاک، 4 افراد شہید

Spread the love

کاشف عباسی ,May 24 ,2026

بنوں/نیوز اینڈ نیوز

خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل میریان کے علاقے براکزئی اخوند خیل میں ہفتہ کے روز پولیس، امن کمیٹی اور دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ میں کم از کم 25 دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کارروائی کے دوران دو پولیس اہلکاروں اور دو شہریوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ سات پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔

پولیس حکام کے مطابق کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب امن کمیٹی کو علاقے میں بڑی تعداد میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ اطلاع ملتے ہی بنوں پولیس نے فوری طور پر آپریشن شروع کیا جبکہ لکی مروت کی امن کمیٹی نے بھی پولیس کی مدد کیلئے علاقے میں پہنچ کر کارروائی میں حصہ لیا۔

ضلعی پولیس افسر یاسر آفریدی کے مطابق دہشت گردوں نے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں، تاہم پولیس نے شدید مزاحمت کے باوجود پیش قدمی جاری رکھی اور علاقے کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران دو اہم دہشت گرد کمانڈر، زمری نور اور عبداللہ بھی مارے گئے۔

شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت وحید خان اور نور اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ شہید شہریوں میں ریٹائرڈ ایف سی اہلکار رئیب خان اور ناصر خان شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق علاقے میں اب بھی بعض دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں جس کے باعث سیکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

دوسری جانب بنوں پولیس نے ایک بڑی دہشت گردی کی کوشش بھی ناکام بنا دی۔ پولیس کے مطابق بنوں۔میرانشاہ روڈ پر ماما خیل کے قریب گل زمان مسجد کے نزدیک نصب 10 کلو وزنی ریموٹ کنٹرول بم کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا گیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر دھماکا خیز مواد کو محفوظ طریقے سے تلف کیا۔

سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔