فائبرائزیشن کی آڑ میں ٹیلی کام کمپنیوں کو شہریوں کے گھروں تک رسائی نہیں دی جا سکتی، متنازع بل کو کسی صورت منظور نہیں ہونے دیں گے، پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کا کڑا مؤقف، بل میں کنفیوژن موجود ہے، گنجائش ہوئی تو تبدیلی کریں گے، وفاقی وزیر شزا فاطمہ کی وضاحت

Spread the love

کاشف عباسی ,june 19,2026

اسلام آباد (سیاسی رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 19 جون 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی مقتدر سینیٹر پلوشہ خان نے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور فائبرائزیشن کے نام پر لائے جانے والے نئے قانون پر سخت ترین سٹرٹیجک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کنیکٹیوٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کی آڑ لے کر نجی یا سرکاری ٹیلی کام کمپنیوں کو عام شہریوں کے گھروں اور نجی املاک تک رسائی کا بلاجواز اختیار کسی صورت نہیں دیا جا سکتا، اسلام آباد سے جاری اپنے ایک اہم ترین بیان میں سینیٹر پلوشہ خان نے دوٹوک الفاظ میں تہران نما عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس متنازع بل کو سینیٹ سے کسی صورت منظور نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ آئینِ پاکستان اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متصادم کوئی بھی قانون سازی کرنا ناممکن ہے، ان کا کہنا تھا کہ کنیکٹیوٹی کی مد میں معصوم عوام کا معاشی یا آئینی استحصال نہیں کیا جا سکتا اور مقتدر ماہرینِ قانون و ٹیکنالوجی کی حتمی رائے کے بغیر اس بل کا پاس ہونا قطعی ناممکن ہے۔

سینیٹر پلوشہ خان نے سیاسی منظرنامے کی صراحت کرتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ کسی مخصوص سیاسی وجہ یا دباؤ کے باعث یہ بل قومی اسمبلی سے باآسانی نکل گیا ہو، مگر سینیٹ (ایوانِ بالا) میں اسے پیپلز پارٹی نے ہی سٹرٹیجک بنیادوں پر روکا ہے،“ انہوں نے مطلع کیا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ میں ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل“ کو سخت مزاحمت کر کے رکوایا ہے، دوسری جانب اس بڑے سیاسی و عوامی دباؤ کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ نے بھی حکومت کا پوزیشن واضح کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا ہے کہ ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ترمیمی بل 2026“ میں اگر عوامی مفاد یا قانونی ویزا کے تحت کسی بھی تبدیلی کی گنجائش ہوئی تو حکومت اپوزیشن کی مشاورت سے وہ تبدیلیاں ضرور کرے گی۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مقتدر پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے اعتراف کیا کہ بل پر مزید تفصیلی وضاحتوں کی کڑی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ضروری ترامیم لائی جائیں گی، ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اعتراض بالکل ٹھیک ہے کہ زمین کے اوپر ٹیلی کام انفراسٹرکچر (ٹاورز اور تاروں) کی تنصیب اور نجی املاک کے حوالے سے بل کے مسودے میں کچھ سنگین کنفیوژن موجود ہے، جسے پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ضرور دور کیا جائے گا، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے بل میں موجود بھاری جرمانوں کے حوالے سے اصرار کیا کہ قانون میں درج 5 کروڑ روپے تک کا جرمانہ صرف اور صرف اسی مخصوص صورت میں عائد ہوگا جب زمین یا جائیداد کے مالک اور ٹیلی کام کمپنی کے درمیان باہمی رضامندی سے باقاعدہ معاہدہ طے پا چکا ہو اور بعد میں مالکِ مکان کی جانب سے اس قانونی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جائے، حکومت اس بل کے ذریعے کسی کے حقوق پامال نہیں کرنا چاہتی۔