قومی استحکام اور سیاسی مذاکرات: حکومت اور مسلح افواج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کو سفارتی کامیابی ملی، اختیار ولی خان کی پی ٹی آئی کو ‘میثاقِ جمہوریت’ کی حمایت کی اپیل

Spread the love

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے خیبر پختونخوا کے لیے مقتدر کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کے لیے ‘میثاقِ جمہوریت’ کی بھرپور حمایت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو حاصل ہونے والی حالیہ تمام مقتدر کامیابیاں دراصل قومی اتحاد، یگانگت اور باہمی تعاون کا ہی نتیجہ ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپوزیشن کو دی جانے والی مذاکرات کی مقتدر تجویز کی مکمل حمایت کی اور پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جیل کی روایتی سیاست کے مخدوش دائرے سے باہر نکل کر خالصتاً قومی مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

انہوں نے مقتدر الفاظ میں واضح کیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور یہ بالکل قابلِ قبول ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی، خودمختاری یا بنیادی قومی و تزویراتی مفادات پر کسی بھی قسم کا کوئی سودا یا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اختیار ولی خان نے قومی اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سول حکومت اور مسلح افواج نے مشترکہ اور انتھک جدوجہد کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عظیم سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کرنے کے لیے پاک فوج اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مشترکہ مقتدر کاوشیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

اپنے انٹرویو کے اختتام پر وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دوبارہ زور دیا کہ وہ منفی تنقید اور احتجاج کی سیاست سے آگے بڑھ کر سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی و مقتدر مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ جمہوریت کے پائیدار استحکام اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے سب مل کر کام کر سکیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔