عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اتحاد کا سہرا پاکستان کے تزویراتی کردار کو جاتا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف

منصور احمد june 26,2026

سیالکوٹ (سیاسی و قومی امور رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 26 جون 2026ء

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلم امہ کے مابین بڑھتے ہوئے روابط پر اہم تزویراتی موقف اپنائے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ اور حالیہ کشیدگی میں پاکستان نے جو کلیدی کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ کے سنہری حروف میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اور آج عالمِ اسلام میں ابھرتے ہوئے اس بے مثال اتحاد کا سہرا پاکستان کے سر جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اڈا پسروریاں میں میڈیا کے مقتدر نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے عاشورۂ محرم کے موقع پر سیالکوٹ کے مرکزی ماتمی جلوس میں شرکت کی اور جلوس کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے بیری والا چوک میں واقع مستری عبداللہ امام بارگاہ میں منعقدہ مجلسِ عزا میں بھی شرکت کی، جبکہ صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت محمد منشاء اللہ بٹ بھی ان کے ہمراہ فیلڈ میں موجود تھے۔

اڈ ا پسروریاں میں میڈیا سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ اس سال محرم الحرام ایک ایسے نازک وقت میں آیا ہے جب پورا خطہ حالیہ جنگ کے سنگین اثرات سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم کی غیر متزلزل استقامت کو زبردست سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنتِ حسینی اور شہدائے کربلا کی ثابت قدمی کی یاد تازہ کر دی ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ عاشورۂ محرم کے موقع پر آج عالمِ اسلام کا جو تزویراتی اتحاد دیکھنے میں آ رہا ہے، اس کی مثال گزشتہ صدیوں میں بہت کم ملتی ہے اور اس مقتدر کامیابی کا سہرا پاکستان کے عزم و استقلال اور ایرانی عوام کی بے مثال ثابت قدمی کو جاتا ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ فلسطینیوں، ایرانیوں اور لبنانیوں کی لازوال قربانیاں رنگ لا رہی ہیں اور وہ وقت اب دور نہیں جب فلسطین ایک خود مختار اور آزاد ریاست بنے گا اور لبنان کے عوام بھی اسرائیلی ظلم و ستم سے ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام گزشتہ اڑھائی سے تین برس سے جس قربانی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ بھی درحقیقت کربلا کی ہی یاد تازہ کرتی ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ مسلم ممالک کا یہ اتحاد دائمی صورت اختیار کرے اور پوری امتِ مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے۔

اس مقتدر موقع پر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) دوست محمد نے وفاق اور صوبے کے وزراء کو ضلع بھر میں محرم الحرام کے دوران کیے گئے امن و امان، ٹریفک، صفائی اور دیگر بلدیاتی انتظامات پر تفصیلی اور مقتدر بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے بریفنگ میں بتایا کہ 10 محرم الحرام کو ضلع بھر سے 87 ماتمی جلوس برآمد ہو رہے ہیں جن کے لیے رواں سال مثالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تمام جلوسوں اور مجالس کی مانیٹرنگ کے لیے 410 سے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آفس میں یکم محرم الحرام سے ایک مقتدر 24 گھنٹے فعال مانیٹرنگ روم قائم ہے جو صوبائی محکمہ داخلہ کے مرکزی سیل سے براہِ راست منسلک ہے۔ مزید برآں، جلوسوں کے راستوں میں سبیلیں اور شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی ہیٹ اسٹروک کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او دوست محمد نے سیکیورٹی گراؤنڈز پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محرم الحرام کے دوران فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے 2600 سے زائد پولیس اہلکار الرٹ ہو کر ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں، جہاں شہر میں تھری لیئر (تین درجاتی) سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اور بلند عمارتوں کی روف ٹاپس پر بھی مسلح اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

قومی استحکام اور سیاسی مذاکرات: حکومت اور مسلح افواج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کو سفارتی کامیابی ملی، اختیار ولی خان کی پی ٹی آئی کو ‘میثاقِ جمہوریت’ کی حمایت کی اپیل

کاشف عباسی ,june 25,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 25 جون 2026ء

وزیرِ اعظم پاکستان کے خیبر پختونخوا کے لیے مقتدر کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام کے لیے ‘میثاقِ جمہوریت’ کی بھرپور حمایت کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کو حاصل ہونے والی حالیہ تمام مقتدر کامیابیاں دراصل قومی اتحاد، یگانگت اور باہمی تعاون کا ہی نتیجہ ہیں۔ ایک مقامی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپوزیشن کو دی جانے والی مذاکرات کی مقتدر تجویز کی مکمل حمایت کی اور پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ جیل کی روایتی سیاست کے مخدوش دائرے سے باہر نکل کر خالصتاً قومی مفادات پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

انہوں نے مقتدر الفاظ میں واضح کیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں حکومت کی پالیسیوں پر تعمیری تنقید کرنا اپوزیشن کا آئینی حق ہے اور یہ بالکل قابلِ قبول ہے، لیکن پاکستان کی سلامتی، خودمختاری یا بنیادی قومی و تزویراتی مفادات پر کسی بھی قسم کا کوئی سودا یا سمجھوتہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ اختیار ولی خان نے قومی اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سول حکومت اور مسلح افواج نے مشترکہ اور انتھک جدوجہد کے ذریعے ملک کو ایک بار پھر عظیم سفارتی اور تزویراتی (اسٹریٹجک) کامیابی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کرنے کے لیے پاک فوج اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی مشترکہ مقتدر کاوشیں بلاشبہ لائقِ تحسین اور قابلِ فخر ہیں۔

اپنے انٹرویو کے اختتام پر وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی پر دوبارہ زور دیا کہ وہ منفی تنقید اور احتجاج کی سیاست سے آگے بڑھ کر سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو پارلیمانی و مقتدر مذاکرات کے عمل میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ جمہوریت کے پائیدار استحکام اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے سب مل کر کام کر سکیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔