قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، پارلیمنٹ کے تقدس اور مہمانوں کے پاسز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی کا فیصلہ

Spread the love

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے معطل رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی مقتدر تحریک کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، جس پر ایوان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی اور قومی اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جا رہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلے ٹرانسمیشن کی جائے مگر اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچنا چاہیے، نیز اقبال آفریدی 11 جون سے معطل ہیں اور چونکہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، اس لیے ان کے حلقے کی نمائندگی کے لیے ان کی معطلی ختم کی جائے۔

بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر مقتدر رولنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، اعلیٰ عدلیہ یا مسلح افواج پر کوئی منفی بات کی جائے گی تو اسے آن ائیر جانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کا مقصد ہاؤس اور ایم این ایز کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اقبال آفریدی کو باور کرائے کہ وہ آئندہ سیکورٹی پاسز کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں نہیں لائیں گے اور پارلیمانی عملے یا دیگر اراکین کے ساتھ بدتمیزی سے گریز کریں گے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی لابیز صرف اراکین کے لیے ہوتی ہیں، وہاں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ ووٹنگ کے عمل کے دوران لابیز ایوان کا حصہ بن جاتی ہیں، اس لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں کہ ضابطے کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی عملے کو معطل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان کے تقدس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم این ایز کی جانب سے مہمانوں کے لیے بلاجواز کارڈز جاری کروانے کی مروجہ روایت اب ختم ہونی چاہیے، اراکین کا گیلریوں کی طرف اشارے کر کے بات کرنا قواعد کے خلاف ہے اور مہمانوں کی جانب سے اندر ویڈیوز بنانا ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے، پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ان سمیت 4 اراکینِ اسمبلی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے، آئین کے تحت حاضر سروس ججز کے کنڈکٹ کو ایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کے وقار میں ہی ہم سب کا وقار ہے اور ججز پر تنقید کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے داخلہ راستوں پر صرف ایک مخصوص لین ایم این ایز کے لیے مختص ہونی چاہیے جس پر اسپیکر نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے ہی نافذ ہے۔ دوسری جانب علی محمد خان نے پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے مناسب اور باعزت انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایوان نے نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی مقتدر ہدایت جاری کی۔