محرم الحرام کے دوران جلوسوں اور امام بارگاہوں کی سخت نگرانی؛ سیف سٹی کنٹرول روم کے عملے کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیف سٹی اسلام آباد عباس مہدی نے ‘محافظ محرم کنٹرول روم’ کے افسران و عملے کو ایک اہم اور مقتدر بریفنگ دی ہے، جس میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی نگرانی، مانیٹرنگ اور رسپانس میکنزم کو مزید فول پروف اور مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ اتوار کو سرکاری خبر رساں ایجنسی (اے پی پی) کو تفصیلات بتاتے ہوئے سیف سٹی حکام نے کہا کہ اس اہم بریفنگ کا بنیادی فوکس جدید سیف سٹی سرویلنس کیمرہ سسٹم کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی تمام امام بارگاہوں اور جلوس کے مروجہ راستوں کی چوبیس گھنٹے موثر ترین نگرانی کو یقینی بنانا ہے۔

عباس مہدی نے کنٹرول روم کے افسران کو سخت احکامات جاری کیے کہ وہ مسلسل چوکس رہیں اور اسلام آباد میں ہونے والے تمام مذہبی اجتماعات اور ماتمی جلوسوں کی جامع ترین کوریج کو مانیٹر کریں۔ حکام کے مطابق اس موقع پر ‘محافظ محرم ایپ’ کے ذریعے موصول ہونے والی شہریوں کی تمام ایمرجنسی کالز کو اولین ترجیح دینے اور ان پر سیکنڈز کے اندر فوری ایکشن لینے کی خصوصی ہدایات دی گئیں تاکہ بروقت ریسکیو اور عوامی مدد کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ بریفنگ کے دوران کنٹرول روم اور فیلڈ فارمیشنز کے درمیان موثر اسٹرٹیجک کوآرڈینیشن پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ابھرتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے، جبکہ فیلڈ مارشل ڈسپلن کے تحت عملے کو تمام دستیاب تکنیکی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

محرم الحرام کے جلوسوں کے دوران ٹریفک پلان پر سختی سے عمل کیا جائے، مختص پارکنگ کا استعمال لازمی، سی ٹی او اسلام آباد

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) اسلام آباد کائنات اظہر خان نے محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے دوران بہترین نظم و ضبط اور ٹریفک قوانین کی مقتدر تعمیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائرین اور شہری صرف اور صرف پارکنگ کی مخصوص جگہیں استعمال کریں، اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) ٹریفک کی روانی کے لیے سیکیورٹی و ٹریفک پلان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ اتوار کو ایک مقامی میڈیا چینل سے مقتدر گفتگو کرتے ہوئے چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد نے محرم کے جلوسوں کے دوران منظم طرزِ عمل کی اہمیت اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ سڑکوں پر کسی بھی قسم کی تکلیف اور بھیڑ سے بچا جا سکے، ٹریفک پلان کی کسی بھی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور مذہبی اجتماعات کے دوران پریشانی سے بچنے کے لیے سخت انتظامی اقدامات کیے جائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سی ٹی او کائنات اظہر خان نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان انٹر سٹی نقل و حرکت میں اضافے کی وجہ سے خاص طور پر ویک اینڈ پر بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے کو ملتا ہے، جس کے لیے اسلام آباد پولیس ٹریفک بہاؤ کو منظم کرنے کے لیے فعال اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کو خصوصی مشورہ دیا کہ وہ مروجہ سپیڈ لین کی پابندی کریں، ہیلمٹ لازمی پہنیں اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے دارالحکومت میں قانون کے مقتدر نفاذ کے لیے سیف سٹی کیمروں کے تزویراتی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ سیف سٹی نیٹ ورک کے ذریعے ٹریفک کی تمام خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور ای چالاننگ کے ذریعے کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، لہٰذا کسی بھی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی طرح یہاں بھی ٹریفک قوانین کا احترام کیا جائے تاکہ ایک محفوظ روڈ نیٹ ورک قائم ہو سکے۔

قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے رکن اقبال آفریدی کی معطلی ختم کرنے کی تحریک منظور کر لی، پارلیمنٹ کے تقدس اور مہمانوں کے پاسز کے حوالے سے ضابطہ اخلاق پر سختی کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قومی اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے معطل رکنِ اسمبلی اقبال آفریدی کی رکنیت کی معطلی ختم کرنے کی مقتدر تحریک کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اتوار کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ بجٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے اس حوالے سے تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہی، جس پر ایوان کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد انہوں نے تحریک پیش کی اور قومی اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ اس سے قبل بیرسٹر گوہر خان نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شکوہ کیا کہ اپوزیشن کی تقاریر لائیو ٹیلی کاسٹ نہیں کی جا رہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیلے ٹرانسمیشن کی جائے مگر اپوزیشن کا مؤقف عوام تک پہنچنا چاہیے، نیز اقبال آفریدی 11 جون سے معطل ہیں اور چونکہ بجٹ سیشن سال میں ایک بار آتا ہے، اس لیے ان کے حلقے کی نمائندگی کے لیے ان کی معطلی ختم کی جائے۔

بیرسٹر گوہر خان کے نکتہ اعتراض پر مقتدر رولنگ دیتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جب بھی قومی مفاد کمپرومائز ہو گا اور ریاست، اعلیٰ عدلیہ یا مسلح افواج پر کوئی منفی بات کی جائے گی تو اسے آن ائیر جانے کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ اسپیکر نے کہا کہ اقبال آفریدی کی رکنیت معطلی کو ختم کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ان کا مقصد ہاؤس اور ایم این ایز کے وقار کا تحفظ کرنا ہے، تاہم اپوزیشن کو چاہیے کہ وہ اقبال آفریدی کو باور کرائے کہ وہ آئندہ سیکورٹی پاسز کے بغیر کسی غیر متعلقہ شخص کو پارلیمنٹ میں نہیں لائیں گے اور پارلیمانی عملے یا دیگر اراکین کے ساتھ بدتمیزی سے گریز کریں گے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کی لابیز صرف اراکین کے لیے ہوتی ہیں، وہاں غیر متعلقہ لوگوں کا داخلہ بند ہونا چاہیے کیونکہ ووٹنگ کے عمل کے دوران لابیز ایوان کا حصہ بن جاتی ہیں، اس لیے انہوں نے سارجنٹ ایٹ آرمز کو سخت ترین احکامات جاری کیے ہیں کہ ضابطے کی خلاف ورزی پر سیکیورٹی عملے کو معطل کر دیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان کے تقدس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایم این ایز کی جانب سے مہمانوں کے لیے بلاجواز کارڈز جاری کروانے کی مروجہ روایت اب ختم ہونی چاہیے، اراکین کا گیلریوں کی طرف اشارے کر کے بات کرنا قواعد کے خلاف ہے اور مہمانوں کی جانب سے اندر ویڈیوز بنانا ایوان کے تقدس کو پامال کرتا ہے، پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے عدلیہ کے حوالے سے کہا کہ ماضی میں ان سمیت 4 اراکینِ اسمبلی کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی ہو چکی ہے، آئین کے تحت حاضر سروس ججز کے کنڈکٹ کو ایوان میں نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کے وقار میں ہی ہم سب کا وقار ہے اور ججز پر تنقید کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، جبکہ پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ کے داخلہ راستوں پر صرف ایک مخصوص لین ایم این ایز کے لیے مختص ہونی چاہیے جس پر اسپیکر نے بتایا کہ یہ اقدام پہلے ہی نافذ ہے۔ دوسری جانب علی محمد خان نے پارلیمنٹ آنے والے مہمانوں کے لیے مناسب اور باعزت انتظامات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد ایوان نے نئے کوڈ آف کنڈکٹ کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھنے کی مقتدر ہدایت جاری کی۔

وفاق اور صوبوں میں مالی تعاون خوش آئند، پنجاب کا بجٹ متوازن اور عوام دوست ہے، اشرف بھٹی

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (انیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی صدر اشرف بھٹی نے وفاقی حکومت کو چاروں صوبوں کی جانب سے 1,035 ارب روپے کی خطیر گرانٹ فراہم کرنے کے مقتدر فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ قومی مالیاتی و معاشی چیلنجز، ملکی سکیورٹی صورتحال، قومی اہمیت کے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی جیسے حساس معاملات میں وفاق کو مالی طور پر مستحکم اور مضبوط بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ اپنے ایک مقتدر اخباری بیان میں تجارتی رہنما اشرف بھٹی نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان یہ مالی تعاون قومی یکجہتی، معاشی بقا اور جیو پولیٹیکل استحکام کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور تزویراتی پیشرفت ہے۔

مرکزی صدر آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک بہترین، متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں خدمات (سروسز)، پراپرٹی اور موٹر وہیکل ٹیکس جیسے مروجہ ذرائع سے صوبائی ریونیو بڑھانے کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور انتظامی بہتری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پہلے سے موجود کاروباری اور تاجر طبقے پر مزید کوئی اضافی بوجھ نہ پڑے۔ اشرف بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے طویل المدتی مالی اصلاحات ناگزیر ہیں اور صوبائی آمدنی بڑھا کر خود کفالت حاصل کرنا ہوگی، جبکہ ٹیکس نظام میں ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور بہتر گورننس سے تاجر برادری کا نظام پر اعتماد بڑھے گا اور ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق جدید بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی

روزینہ اسماعیل.june 21,2026

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر/نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے مہارتوں، جدید اختراعات، مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور حکومت، اکیڈمیا و انڈسٹری کے مستحکم روابط پر مبنی تعلیمی انقلاب پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جدید، منظم اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ماحول ہی طلباء کو مستقبل کے عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر سکتا ہے۔ سرکاری ٹی وی (پی ٹی وی نیوز) کے ساتھ خصوصی اور مقتدر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے عملی تحریر، مواصلاتی مہارتوں اور عالمی معیار کے مطابق نصابی اصلاحات پر بھرپور توجہ مرکوز کرتے ہوئے تعلیمی نظام کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا اور طلباء کو بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے حقیقی دنیا کی عملی صلاحیتوں سے آراستہ کرنا ہوگا۔

وائس چانسلر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ قائداعظم یونیورسٹی پہلے ہی ملک کے صفِ اول کے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے لیکن اس کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کو برقرار رکھنے اور اس کے مزید فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون اور فنڈنگ کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کو طلباء کے لیے صرف معاون ٹولز کے طور پر تعمیری طور پر اپنانا چاہیے تاکہ ان پر حد سے زیادہ انحصار پیدا کرنے کے بجائے سیکھنے کے نتائج کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں جدید لیبز اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کیمپس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں، منشیات اور سگریٹ نوشی پر سخت ‘زیرو ٹالرینس پالیسی’ پر عمل پیرا ہے اور سیکھنے، کردار سازی و یونیورسٹی کے مقتدر معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک صحت مند تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

ملک کے دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے نئے اعدادوشمار جاری

منصور احمد june 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 جون 2026ء

واپڈا نے ملک کے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ اتوار کو جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 29 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 45 ہزار 800 کیوسک، جبکہ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 45 ہزار کیوسک اور اخراج بھی 45 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح خیرآباد پل پر پانی کی آمد 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک رہا، دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 31 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

مختلف بیراجوں کے مروجہ اعدادوشمار کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 22 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 15 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 10 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک، تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 94 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 69 ہزار 200 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 52 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 15 ہزار 100 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد 1 لاکھ 7 ہزار کیوسک اور اخراج 64 ہزار 600 کیوسک، کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 22 ہزار 300 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک، تریموں بیراج میں پانی کی آمد 18 ہزار کیوسک اور اخراج 3 ہزار 400 کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 12 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے بڑے آبی ذخائر کی موجودہ صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1443.28 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، تربیلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.816 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1171.55 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، منگلا میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.652 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ ہے جبکہ ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، چشمہ میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ ہے اور آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.065 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔