ملک میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے؛ پاکستان میں 5 لاکھ 70 ہزار افراد موتیا کے باعث نابینا، مالی مشکلات، ذیابیطس اور ماہرینِ چشم کی کمی بڑے چیلنجز، سرکاری شعبے کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور.

Spread the love
Indian surgeon Dr. Sunita Agarwal (C) is

منصور احمد june 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 جون 2026ء

الشفاء ٹرسٹ آئی ہاسپٹل کے شعبہ موتیا کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے ملک میں بڑھتی ہوئی قابلِ علاج نابینائی کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موتیا کے مریضوں کی تعداد موجودہ نظامِ صحت کی استعداد سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سال 2030ء تک پاکستان میں ہر سال کم از کم 18 لاکھ 40 ہزار موتیا کے آپریشن درکار ہوں گے، جس کے لیے سرکاری شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کرنا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس وقت زیادہ تر غریب مریض فلاحی اداروں اور نجی اسپتالوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے بتایا کہ الشفاء ٹرسٹ اپنے مختلف اسپتالوں اور آؤٹ ریچ کیمپس کے ذریعے ہر سال تقریباً 60 ہزار موتیا کے آپریشن کرتا ہے، تاہم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں یہ استعداد ناکافی ہے۔ انہوں نے اہم ترین طبی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت اندازاً 5 لاکھ 70 ہزار بالغ افراد موتیا کے باعث بینائی سے محروم ہو چکے ہیں جبکہ 35 لاکھ 60 ہزار افراد بینائی کی شدید کمزوری کا شکار ہیں۔ ملک میں موتیا کے ہونے والے کل آپریشنز میں سے 42.4 فیصد نجی اسپتالوں، 39.9 فیصد غیر سرکاری تنظیموں جبکہ صرف 17.7 فیصد سرکاری اسپتالوں میں کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے مریض فلاحی اداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔

انہوں نے نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی ایک بڑی وجہ ماہر امراضِ چشم کی شدید ترین کمی کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 10 لاکھ کی آبادی کے لیے صرف 15 ماہرینِ چشم موجود ہیں جو ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں انتہائی تشویشناک حد تک کم ہیں۔ الشفاء ٹرسٹ ہر سال تقریباً 20 نئے ماہرین کو تربیت فراہم کرتا ہے لیکن ملک کی مجموعی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ذیابیطس بھی موتیا کی ایک بڑی وجہ بن رہی ہے، کیونکہ پاکستان میں اس وقت 3 کروڑ 45 لاکھ بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں جن میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر صبیح الدین احمد نے واضح کیا کہ علاج کی بھاری لاگت ملکی سطح پر ایک بڑی رکاوٹ ہے، جہاں 76.1 فیصد مریضوں نے مالی مشکلات کو ہی اپنے آپریشن میں تاخیر کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ اس صورتحال سے خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں کیونکہ نقل و حرکت کی پابندیاں، مالی فیصلوں میں اختیار نہ ہونا اور علاج تک دیر سے رسائی ان کی بینائی کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرکاری اسپتالوں میں آنکھوں کے معمول کے معائنے اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے موتیا کی باقاعدہ اسکریننگ کو لازمی قرار دیا جائے، بصورتِ دیگر قابلِ علاج نابینائی کا شکار افراد کا بوجھ ملکی معیشت اور معاشرے پر مسلسل بڑھتا رہے گا۔