

روزینہ اسماعیل.May 25,2026
مکہ مکرمہ: دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج نے روح پرور اور ایمان افروز ماحول میں مناسکِ حج کا باقاعدہ آغاز کر دیا، جہاں ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کی گونج کے ساتھ حجاجِ کرام خیموں کے شہر منیٰ کی جانب روانہ ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق بیرونِ ممالک سے آنے والے عازمین سمیت مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد حجاج اس وقت مکہ مکرمہ میں موجود ہیں، جہاں سے قافلوں کی صورت میں منیٰ روانگی کا سلسلہ جاری ہے۔ احرام میں ملبوس فرزندانِ اسلام کی بڑی تعداد عبادات، تلبیہ اور دعاؤں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔
عازمین آج کی رات منیٰ میں قیام کریں گے، جہاں وہ عبادات، ذکر و اذکار اور استغفار میں مشغول رہیں گے۔ کل 9 ذوالحجہ کو نمازِ فجر کے بعد تمام حجاج رکنِ اعظم وقوفِ عرفات کی ادائیگی کے لیے میدان عرفات روانہ ہوں گے، جہاں خطبۂ حج کے بعد ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی۔
سورج غروب ہونے کے بعد حجاج بغیر مغرب ادا کیے مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔
سعودی محکمہ موسمیات نے حج کے دوران شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق مکہ مکرمہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں درجہ حرارت 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے باعث حبس کی کیفیت بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ گرد آلود ہواؤں کے امکانات کے باعث حجاج کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے عازمین کی سہولت کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں کولنگ فینز، سایہ دار راستے، پانی کے اسپرے سسٹمز، طبی مراکز اور ہنگامی امدادی ٹیمیں شامل ہیں۔ حکام کے مطابق اس سال تقریباً 30 فیصد حجاج ’’مکہ روٹ انیشی ایٹو‘‘ کے تحت جدید امیگریشن نظام کے ذریعے براہِ راست اور آسان طریقے سے سعودی عرب پہنچے۔
حج کے روحانی مناظر، دنیا بھر سے آئے مسلمانوں کا اتحاد اور مقدس مقامات پر عبادات کا یہ عظیم اجتماع امتِ مسلمہ کے اتحاد، امن اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت تصویر پیش کر رہا ہے۔