وزیراعظم شہباز شریف کا امریکہ۔ایران مذاکرات کے اگلے دور کی جلد اسلام آباد میں میزبانی کی امید کا اظہار

Spread the love

کاشف عباسی ,May 25 ,2026

اسلام آباد/نیوز اینڈ نیوز

وزیراعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کا اگلا دور بہت جلد اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے، جبکہ پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں بھی اہم پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمت کی فضا مضبوط ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان ایک مرتبہ پھر اہم ثالثی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ چین کے چار روزہ دورے پر موجود وزیراعظم شہباز شریف کو امریکہ اور ایران کی جانب سے اعلیٰ سطح کے وفود کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے “سنجیدہ اشارے” موصول ہوئے ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق پاکستان آئندہ مذاکراتی مرحلے کی میزبانی کے لیے زیر غور ہے۔

تاہم وزیراعظم آفس کے ایک سینئر ذریعے نے اس حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال اسلام آباد میں کسی بڑے سفارتی اجلاس کی عملی تیاریوں کا آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی فوری طور پر مذاکرات کی تاریخ طے ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ رواں برس اپریل میں اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا میزبان بن چکا ہے، جہاں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خطے میں امن کے قیام کے لیے غیرمعمولی کوششیں کیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اور مفید ٹیلیفونک رابطہ کیا۔

وزیراعظم کے مطابق اس گفتگو میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جن کی سفارتی کوششوں اور مسلسل رابطوں کو انہوں نے سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس رابطے کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور امن عمل کو آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں پوری سنجیدگی سے جاری رکھے گا۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی صدر ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی اور مذاکراتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ رابطہ خطے میں امن، استحکام اور جلد سفارتی حل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت حتمی شکل اختیار کرتی ہے تو اسلام آباد ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتکاری کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔