

روزینہ اسماعیل.june 30,2026
لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء
وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیرِ اہتمام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 187ویں برسی کی مرکزی اور مقتدر تقاریب باقاعدہ اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارتی سکھ یاتری پاکستان سے امن، بے لوث محبت، مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مقتدر پیغام لے کر واپس اپنے وطن روانہ ہو گئے۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور و پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی (پی ایس جی پی سی) سردار رمیش سنگھ اروڑہ، پی ایس جی پی سی کے معزز ممبران اور سیکرٹری متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے بھارتی سکھ یاتریوں کو روایتی مقتدر انداز میں الوداع کیا۔
پاکستان سے رخصتی کے موقع پر سکھ یاتریوں نے یہاں ملنے والی بے پناہ محبت، مقتدر عزت اور تاریخی مہمان نوازی پر والہانہ اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں قیام کے دوران انہیں بالکل اپنے گھر جیسا پرامن ماحول میسر آیا۔ انہوں نے گوردواروں کے بہترین اور جدید انتظامات، مثالی صفائی ستھرائی، تزئین و آرائش اور دیگر سفری و مذہبی سہولیات کو مقتدر سطح پر سراہا۔ یاتریوں نے متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی دن رات خدمت اور رہائش، لنگر، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس گوردوارے مکمل محفوظ، انتہائی خوبصورت اور بہترین تزویراتی انداز میں سنبھالے جا رہے ہیں؛ دنیا بھر کے سکھ پاکستان کے ان مقدس مقامات کی یاترا کے مقتدر خواہشمند ہیں اور وہ یہاں سے واپس جا کر محبت، بھائی چارے اور بین المذاہب رواداری کا یہ سچا پیغام پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھ یاتری پاکستان سے محبت اور عقیدت کا مقتدر پیغام لے کر جا رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان مثبت سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومتِ پاکستان کے مقتدر وژن کے تحت اس وقت ملک بھر میں پچاس اہم گوردواروں کو تزئین و آرائش کے بعد اصل حالت میں بحال کیا جا رہا ہے، اور وہ ان تمام تعمیری معاملات میں بھرپور اور مخلصانہ تعاون پر چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمر الزمان اور ان کی پوری ٹیم کے بے حد شکر گزار ہیں۔
سیکرٹری بورڈ ناصر مشتاق نے الوداعی تقریب کے دوران بتایا کہ چیئرمین قمر الزمان کی خصوصی اور مقتدر ہدایات کی روشنی میں یاتریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی گئی، جبکہ غیر معمولی گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے راستوں میں خصوصی “ہیٹ سینٹرز” قائم کیے گئے اور واہگہ بارڈر پر بھارتی سکھ یاتریوں کی آمد و روانگی کے وقت ٹھنڈا منرل واٹر اور جوسز بھی وافر مقدار میں فراہم کیے گئے۔ انہوں نے عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتوں کے مقدس مقامات کے مستقل تحفظ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے، اور دنیا بھر میں بسنے والے سکھ جب بھی چاہیں پاکستان آئیں، ہم ان کی مقتدر مہمان نوازی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ آج تمام سکھ یاتری انتہائی خوشگوار یادوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ مقتدر طور پر اپنے وطن روانہ ہو گئے۔